وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انور چوہدری نے ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ ملک میں مچھلی اور سمندری مصنوعات کی برآمدات تاریخ میں پہلی بار 500 ملین ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں۔ انہوں نے اسے بحری شعبے اور بلیو اکانومی کیلئے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 500 ملین ڈالر کا جو ہدف طے کیا تھا اسے سال ختم ہونے سے 46 دن پہلے ہی حاصل کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے اس سنگِ میل کو حکومتی اصلاحات، برآمد کنندگان کو دی جانے والی سہولیات اور نئی عالمی مارکیٹوں کی تلاش کا نتیجہ قرار دیا جس کا مقصد بحری معیشت کو مستحکم کرنا اور برآمدات کو فروغ دینا ہے۔

وفاقی وزیر نے سمندری مصنوعات کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے، ماہی گیری کے شعبے کو جدید بنانے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی ممکن بنانے کے لیے وزارتِ بحری امور، میرین فشریز ڈپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے میرین فشریز بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور وسان اور ان کی ٹیم کو وقت سے پہلے یہ بڑا ہدف حاصل کرنے پر خصوصی مبارکباد بھی دی۔

برآمدات میں حالیہ اضافے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہاں کے سی فوڈ کو روس کی مارکیٹ میں بھیجنے کی سرکاری اجازت مل گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک پاکستان کی 16 کمپنیوں کو روس کے لیے سمندری مصنوعات برآمد کرنے کا لائسنس مل چکا ہے۔ روسی مارکیٹ تک اس رسائی سے یوریشین اکنامک یونین کی دیگر بڑی منڈیوں تک پہنچنے میں بھی مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر کے مطابق اس نئی پیش رفت سے پاکستان کی سالانہ سی فوڈ برآمدات 800 ملین ڈالر تک جا سکتی ہیں جبکہ صرف روس کو کی جانے والی ابتدائی برآمدات سے ہی ملک کو 300 ملین ڈالر کا ریونیو حاصل ہوگا۔

وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ روس اور وسطی ایشیا کو سی فوڈ کی سپلائی بحری، فضائی اور زمینی راستوں سے کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں پاکستانی سمندری مصنوعات کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ان ممالک کے لیے وسطی ایشیا کی زمینی راہداریوں کا استعمال پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے انتہائی سستا اور منافع بخش ثابت ہوگا۔

فشریز سیکٹر کی کارکردگی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ مہینوں میں ملکی سی فوڈ انڈسٹری نے زبردست ترقی دکھائی ہے۔ جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران پاکستان نے 253.24 ملین ڈالر مالیت کا 122,629 میٹرک ٹن سی فوڈ برآمد کیا۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 208.25 ملین ڈالر مالیت کا 102,942 ٹن مال باہر بھیجا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس بار برآمدات کے حجم میں 19.1 فیصد اور ملنے والے زرمبادلہ میں 21.6 فیصد کا شاندار اضافہ ہوا ہے۔

فروزن فش برآمدات کے زمرے میں سرِفہرست رہی جس کی 53.33 ملین ڈالر مالیت کی 26,669 ٹن کھیپ باہر بھیجی گئی۔ اس کے علاوہ، جھینگوں کی برآمد سے 40.46 ملین ڈالر اور منجمد کٹل فش سے 36.13 ملین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا۔ دیگر سمندری مصنوعات نے بھی برآمدی فہرست کو وسعت دینے اور مچھلی کی پروسیسنگ کے معیار کو بڑھا کر زیادہ منافع کمانے میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستانی سی فوڈ کے لیے چین بدستور سب سے بڑی منڈی ثابت ہوا جس نے 149.2 ملین ڈالر مالیت کا 83,602 ٹن سے زائد مال خریدا جو پاکستان کی مجموعی سی فوڈ برآمدات کا تقریباً 59 فیصد حصہ ہے۔ تھائی لینڈ دوسری بڑی مارکیٹ رہا جس نے بنیادی طور پر بین الاقوامی طبی و حفاظتی معیار کے مطابق تیار کردہ 31.3 ملین ڈالر کے جھینگے درآمد کیے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور جاپان کو کی جانے والی برآمدات میں بھی تیزی آئی جبکہ نئی منڈیوں کی تلاش کی پالیسی کے تحت یورپی یونین، سعودی عرب، ویتنام، کویت اور امریکہ کو بھی سمندری مصنوعات کی سپلائی بڑھائی گئی۔