دنیا

چین کا امریکا کے ساتھ تمام موجودہ تجارتی معاہدوں پر عملدرآمد پر اتفاق

  • یہ پیش رفت چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دو روزہ سربراہی اجلاس کے بعد سامنے آئی
شائع اپ ڈیٹ

چین کے اعلیٰ سفارتکار نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ چین اور امریکا نے پہلے سے طے شدہ ’’تمام‘‘ معاہدوں پر عملدرآمد جاری رکھنے اور تجارت و سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ کونسلیں قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ پیش رفت چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دو روزہ سربراہی اجلاس کے بعد سامنے آئی، جس میں دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارت سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک متعدد پیچیدہ امور پر بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں کی بیجنگ میں ملاقات کے دوران امریکی صدر کے اعزاز میں مندر کا دورہ اور چائے کی تقریب بھی منعقد کی گئی۔

ٹرمپ نے ’’شاندار تجارتی معاہدوں‘‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے انٹرویوز میں کہا کہ چین امریکی سویا بین اور طیارے خریدے گا، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے اب تک ان معاہدوں کی کوئی باضابطہ تفصیلات یا اعلانات جاری نہیں کیے گئے۔

ٹرمپ کے چین سے روانہ ہونے کے بعد جمعہ کے روز شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب کی دعوت قبول کرتے ہوئے موسمِ خزاں میں امریکا کے دورے کی دعوت منظور کر لی۔

چینی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا کہ دونوں ممالک کے وفود نے مجموعی طور پر مثبت نتائج حاصل کیے ہیں، جن میں پہلے سے طے شدہ تمام معاہدوں پر عملدرآمد جاری رکھنا اور تجارت و سرمایہ کاری کے لیے کونسلیں قائم کرنے پر اتفاق شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے ’’زرعی مصنوعات تک مارکیٹ رسائی سے متعلق ایک دوسرے کے خدشات کو دور کرنے‘‘ اور ’’باہمی ٹیرف میں کمی کے فریم ورک کے تحت دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے‘‘ پر بھی اتفاق کیا ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ دونوں ممالک ایک ’’بورڈ آف ٹریڈ‘‘ اور ’’بورڈ آف انویسٹمنٹ‘‘ کے قیام پر بات چیت کر رہے ہیں۔

چین اور امریکا اس وقت ایک سالہ تجارتی جنگ بندی کے دوران ہیں، جو اکتوبر میں طے پائی تھی، جس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر عائد 100 فیصد سے زائد ٹیرف میں نمایاں کمی پر اتفاق کیا تھا۔