رائے

آبنائے ہرمز سے اسلام آباد: کیا پاکستان اگلے معاشی جھٹکے کے لیے تیار ہے؟

  • عارضی رقوم کے بجائے مستقل اصلاحات ناگزیر، پاکستان کے لیے پائیدار معاشی ماڈل کی تجویز
شائع May 14, 2026 اپ ڈیٹ May 14, 2026 03:29pm

پاکستان کی سہولت کاری سے ہونے والی جنگ بندی نے مارکیٹ میں فوری طور پر پھیلی افراتفری کو تو کم کر دیا ہے لیکن اس نے بنیادی خطرات کا خاتمہ نہیں کیا۔

جنگ بندی درجہ حرارت تو کم کر دیتی ہے مگر کمزوریوں کو مٹا نہیں پاتی۔ تیل کی سپلائی کے راستے اب بھی نشانے پر ہیں، انشورنس کمپنیاں اب بھی محتاط ہیں اور سرمایہ کار بدستور عالمی منڈیوں میں جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھ کر قیمتوں کا تعین کر رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ فرق بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

جب آبنائے ہرمز تنازع کا مرکز بنتی ہے تو اس کا معاشی جھٹکا صرف ایک جگہ تک محدود نہیں رہتا۔ یہ بحری راستوں، مال برداری (فریٹ) کی منڈیوں، انشورنس پریمیم اور توانائی کی قیمتوں کے ذریعے تیزی سے پھیلتا ہے۔ چند ہی ہفتوں میں یہ اثر پاکستان کے درآمدی بل، شرح مبادلہ، مہنگائی اور بالآخر عام گھرانوں کی دہلیز تک پہنچ جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے والی محض ایک تنگ آبی گزرگاہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ دنیا کی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اور ایل این جی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ یہیں سے گزرتا ہے، جو اسے عالمی معیشت کا حساس ترین پریشر پوائنٹ بناتا ہے۔ کوئی بھی رکاوٹ خواہ وہ فوجی کشیدگی ہو، جہاز رانی کا عدم تحفظ یا جنگی خطرات کے باعث بڑھتی ہوئی انشورنس، پوری عالمی معیشت میں لاگت کو تیزی سے بڑھا دیتی ہے۔

وہ صورتحال جو ابتدائی طور پر عارضی اتار چڑھاؤ معلوم ہو رہی تھی اب تیزی سے مستقل اسٹرکچر غیر یقینی کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ توانائی کی منڈیاں بدستور نازک ہیں، علاقائی راستوں میں رکاوٹ کی وجہ سے مال برداری کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور مالیاتی منڈیاں بدستور عالمی جغرافیائی تبدیلیوں پر گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ عالمی نمو کے تخمینے کمزور پڑ گئے ہیں، مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے حوالے سے سرمایہ کاروں کا رویہ مزید محتاط ہو گیا ہے۔

اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں ہیں۔ توانائی درآمد کرنے والی معیشتیں جیسے کہ بھارت، بنگلہ دیش، ترکیہ اور پاکستان پہلے ہی درآمدی لاگت میں اضافے اور بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ یورپ کی ترقی یافتہ معیشتیں بھی توانائی کی بلند قیمتوں اور سست صنعتی سرگرمیوں سے نبرد آزما ہیں۔ دریں اثنا زیادہ کمزور ترقی پذیر معیشتوں کو قرضوں کی ادائیگی، غذائی تحفظ اور مہنگائی کے انتظام میں مزید دباؤ کا سامنا ہے۔

تاہم پاکستان کے لیے مسئلہ خود ’ہرمز‘ سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ ملک بیرونی جھٹکوں کے حوالے سے ساختی طور پر کمزور ہے۔ پاکستان کو تین طرح کے خطرات کا سامنا ہے، پہلا درآمدی توانائی پر انحصار، دوسرا خلیجی معیشتوں سے آنے والی ترسیلاتِ زر کا ارتکاز اور سوئم سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی کے حوالے سے حساسیت۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اکثر نہ صرف تیل کی قیمت ادا کرتا ہے بلکہ خود غیر یقینی صورتحال کی قیمت بھی چکاتا ہے۔

منتقلی کا یہ عمل براہ راست ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں درآمدی بل کو بڑھا دیتی ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ اس کے بعد روپے کی قدر میں کمی آتی ہے، جو ملکی مہنگائی کو جنم دیتی ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ بجلی مہنگی ہو جاتی ہے۔ سپلائی چین کے ذریعے خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ ادویات، اسکول کی ٹرانسپورٹ اور دیگر روزمرہ کی ضروریات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہونے لگتی ہیں۔

اس کے نتائج صرف میکرو اکنامک اشاریوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کی بھاری سماجی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔ معاشی دباؤ کا پہلا شکار اکثر تعلیم بنتی ہے۔ جیسے ہی گھرانوں کی قوتِ خرید کمزور ہوتی ہے، مالی طور پر پریشان خاندان بچوں کو اسکولوں سے نکال لیتے ہیں۔ غذائی عدم تحفظ میں بھی شدت آتی ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں میں جہاں اخراجات کا بڑا حصہ خوراک پر صرف ہوتا ہے۔ بچوں میں غذائی قلت اور نشوونما میں کمی کی بلند شرح کے پیش نظر مہنگائی کا طویل دباؤ انسانی سرمائے کے طویل مدتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

روزگار کے مواقع بھی اتنے ہی خطرے میں ہیں۔ سست نمو، پیداواری لاگت میں اضافہ اور کاروباری اعتماد میں کمی کی وجہ سے نئی ملازمتوں کے مواقع کم ہو جاتے ہیں، خاص طور پر غیر رسمی اور کم ہنر مند شعبوں میں جہاں مزدوروں کو تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ لہٰذا معمولی بیرونی جھٹکے بھی غربت میں کمی کے لیے کی گئی کوششوں کو ریورس اور سماجی عدم مساوات کو گہرا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کا سماجی تحفظ کا نظام، خاص طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک اہم حفاظتی جال فراہم کرتا ہے۔ تاہم مسلسل مہنگائی کے دوران کیش ٹرانسفر کی حقیقی قدر تیزی سے کم ہو جاتی ہے جب تک کہ اس میں بروقت اور ہدف کے مطابق تبدیلیاں نہ کی جائیں۔

پہلی پالیسی غلطی اس سے انکار کرنا ہے۔ دوسری گھبراہٹ ہے۔ تیسری غلطی عام سبسڈیز اور قیمتوں میں ہیرا پھیری کے اسی پرانے چکر میں دوبارہ داخل ہونا ہے۔

پاکستان بیرونی جھٹکوں کو ختم تو نہیں کر سکتا، لیکن اسے ان کا انتظام دانشمندی سے کرنا سیکھنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قیمتوں میں اضافے کو متناسب طریقے سے منتقل کیا جائے، کمزور گھرانوں کی ٹارگٹڈ مدد کی جائے، توانائی کی بچت کے عارضی اقدامات کیے جائیں اور برآمدی شعبوں کو تحفظ دیا جائے۔ توانائی کی درآمدات کے لیے موخر ادائیگی (ڈیفرڈ پیمنٹ) کے انتظامات حاصل کرنا، ضروری درآمدات کو ترجیح دینا اور سروسز کی برآمدات کو فروغ دینا بیرونی اکاؤنٹ پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

پالیسیوں کے مابین ہم آہنگی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ پاکستان میں پالیسی آئیڈیاز کی کمی نہیں ہےمگر مسئلہ ان پر مستقل مزاجی سے عمل درآمد کا ہے۔ اس پیمانے کے بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے مالیاتی، مانیٹری، توانائی اور تجارتی اداروں کے درمیان مربوط تعاون کی ضرورت ہے۔ ادارہ جاتی ہم آہنگی کے بغیر بہترین طریقے سے بنائی گئی پالیسیاں بھی اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر بیرونی بحران کو بنیادی اصلاحات کی رفتار تیز کرنے کے اشارے کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو ایک ایسے لچکدار معاشی ماڈل کی ضرورت ہے جو توانائی کے متنوع ذرائع، مضبوط برآمدات، زرمبادلہ کے بڑے ذخائر، بہتر پیداواری صلاحیت اور قلیل مدتی بیرونی رقوم پر کم انحصار پر مبنی ہو۔ ایک مضبوط معیشت جھٹکوں کو جذب کر لیتی ہے جبکہ ایک کمزور معیشت انہیں براہ راست مہنگائی، کرنسی کے عدم استحکام اور گھریلو پریشانیوں میں منتقل کر دیتی ہے۔

پاکستان آبنائے ہرمز کی پیش رفت کو کنٹرول نہیں کر سکتا لیکن وہ یہ کنٹرول کر سکتا ہے کہ وہاں سے ابھرنے والے ہر جھٹکے کے سامنے وہ کتنا کمزور رہتا ہے۔

ہرمز سے اسلام آباد تک پیغام واضح ہے، بیرونی جھٹکے آتے رہیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر بحران پاکستان کی بنیادی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا رہے گا یا آخر کار ملک کو انہیں حل کرنے پر مجبور کرے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026ء