کاروبار اور معیشت

سی سی پی نے ری اسٹرکچرنگ فرم میں یونائیٹڈ ایتھنول کے حصص کے حصول کی منظوری دے دی

  • یونائیٹڈ ایتھنول کے پی سی آر سی ایل کے ساتھ کارپوریٹ انضمام کی منظوری، مالیاتی ری اسٹرکچرنگ شعبے میں مارکیٹ کے تسلسل کو یقینی بنا دیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے یونائیٹڈ ایتھنول انڈسٹریز لمیٹڈ کی جانب سے پاکستان کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنی لمیٹڈ (پی سی آر سی ایل) میں حصص کے حصول کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت پہلے مرحلے (فیز-1) کی مسابقتی جانچ کے بعد دی گئی ہے۔

منگل کے روز جاری کردہ بیان میں سی سی پی نے کہا کہ پاکستان کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنی لمیٹڈ (پی سی آر سی ایل) ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جسے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی) سے ری اسٹرکچرنگ کمپنی کے طور پر کام کرنے کا لائسنس حاصل ہے۔

یہ کمپنی بنیادی طور پر غیر کارکردگی دکھانے والے اثاثہ جات یا نان پرفارمنگ ایسٹس ( این پی ایز) کے حصول، انتظام، ری اسٹرکچرنگ اور حل کے ساتھ ساتھ مالی مشکلات کے شکار کاروباری اداروں کی بحالی، تنظیم نو اور تصفیے کے امور انجام دیتی ہے۔

یونائیٹڈ ایتھنول انڈسٹریز لمیٹڈ، جو کہ حصول کرنے والی کمپنی ہے، ایتھنول اور اس سے متعلقہ صنعتی مصنوعات کی تیاری اور فروخت کے شعبے میں سرگرم ہے۔ یہ کمپنی وسیع تر زرعی کاروبار اور صنعتی شعبے میں کام کرتی ہے اور ویلیو ایڈڈ زرعی پروسیسنگ کے ذریعے فیول گریڈ اور انڈسٹریل گریڈ ایتھنول تیار کرتی ہے۔

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے مطابق یہ لین دین پاکستان کے آٹھ کمرشل بینکوں سے پاکستان کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنی لمیٹڈ (پی سی آرسی ایل) کے عام حصص کے حصول پر مشتمل ہے، جن میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، ایم سی بی بینک لمیٹڈ، الائیڈ بینک لمیٹڈ، میزان بینک لمیٹڈ، حبیب میٹروپولیٹن بینک لمیٹڈ، حبیب بینک لمیٹڈ، بینک الفلاح لمیٹڈ اور بینک الحبیب لمیٹڈ شامل ہیں۔

معاملے کی جانچ پڑتال کے دوران کمیشن نے پاکستان میں “نان پرفارمنگ اثاثہ جات کے حل اور ری اسٹرکچرنگ ایڈوائزری/ایجنسی خدمات” کی مارکیٹ میں اس لین دین کے مسابقتی اثرات کا جائزہ لیا۔

سی سی پی نے مشاہدہ کیا کہ یہ لین دین ایک کانگلومریٹ مرجر کی نوعیت رکھتا ہے، کیونکہ دونوں فریقین مختلف اور غیر متعلقہ کاروباری شعبوں میں سرگرم ہیں اور ان کے درمیان نہ تو افقی اور نہ ہی عمودی مسابقتی تعلق موجود ہے۔

کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس حصول سے مسابقت میں نمایاں کمی، مارکیٹ میں داخلے کی رکاوٹوں میں اضافہ یا متعلقہ مارکیٹ میں کسی غالب پوزیشن کو مضبوط کرنے کا امکان نہیں ہے۔

یہ لین دین کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 31 کے تحت منظور کیا گیا، اور سی سی پی نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی مارکیٹ ساخت یا مسابقتی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب نہیں کرے گا۔

ریگولیٹر نے کہا کہ وہ بروقت مرجر جائزوں کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری ترقی کی حمایت اور مؤثر مارکیٹ لین دین کو ممکن بنانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ ایک مسابقتی اور شفاف کاروباری ماحول کو یقینی بناتا رہے گا۔