9 مئی کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ 28 مارچ کو طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے دی جو اگلی قسط کے اجرا کے لیے ایک لازمی شرط تھی۔
اگرچہ ان دونوں تاریخوں کے درمیان 41 دن کی تاخیر غیر معمولی نہیں سمجھی جاتی، تاہم یہ عموماً ان پیشگی شرائط کی عکاسی کرتی ہے جنہیں مقروض ملک کے لیے پورا کرنا لازم ہوتا ہے۔
پاکستان نے بورڈ کی منظوری والے دن ہی پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا، جس کے تحت پٹرول اور ڈیزل دونوں پر 13.91 روپے فی لٹر کا اضافہ کیا گیا۔ اس اقدام کے بارے میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ شاید پہلے ہی طے پا چکا تھا اور اسے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے تسلسل سے مشروط کیا گیا تھا، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ اس مؤقف کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ایف بی آر جولائی تا اپریل 2026 کے دوران 13.9 ٹریلین روپے کے نظرثانی شدہ بجٹ ہدف کے مقابلے میں پہلے ہی 683 ارب روپے کے خسارے (شارٹ فال) کا اعلان کر چکا تھا۔
روایت کے مطابق بورڈ کی منظوری کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز میں حکام نے معاہدے پر سختی سے عملدرآمد کو سراہا ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھنے اور مالیاتی و بیرونی حالات کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے جھٹکے اس امر کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں کہ معیشت میں لچک پیدا کرنے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے تسلسل اور مضبوط پالیسیوں کے تسلسل کے ذریعے طویل المدتی پائیدار ترقی کی جانب پیش رفت جاری رکھی جائے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکام طے شدہ اصلاحات پر عملدرآمد کررہے ہیں جن میں شامل ہیں: (i) یوٹیلیٹیز (بجلی و گیس) کی مکمل لاگت کی وصولی، اگرچہ اس شعبے کی نااہلیوں کو کم کرنے میں محدود پیش رفت ہوئی ہے اور زیادہ تر انحصار اب بھی قرضوں پر ہے۔ حال ہی میں گردشی قرضے کی ادائیگی کیلئے 1.2 ٹریلین روپے کا قرض لیا گیا جس کا بوجھ سود سمیت صارفین پر منتقل کیا گیا، (ii) ایف بی آر کے نفاذِ قانون کے اقدامات جن کے ذریعے 384 ارب روپے حاصل ہوئے، تاہم رپورٹس کے مطابق ان اقدامات کو ٹربیونلز اور بعض صورتوں میں عدالتوں میں چیلنج کیا جارہا ہے، (iii) بلند پالیسی ریٹ، اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں شرحِ سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا، یہ مفروضہ رکھتے ہوئے کہ بلند شرح سود مہنگائی کو کم کرے گی، تاہم پاکستان کے تناظر میں اس کی افادیت پر سوالات موجود ہیں کیونکہ سب سے بڑا قرض لینے والا خود حکومت ہے، نہ کہ نجی شعبہ، اور (iv) سب سے اہم نکتہ بیرونی قرضوں پر مسلسل انحصار ہے، متحدہ عرب امارات کے قرض کی واپسی کے معاملے کے حل کے بعد سعودی عرب کی جانب سے مزید 3 ارب ڈالر کی توسیع کے ساتھ جس کے باعث زرمبادلہ ذخائر بڑی حد تک ادھار لیے گئے فنڈز پر مشتمل ہیں۔
حسبِ روایت حکومتی ذرائع نے اس قسط کے اجرا کو ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے جو آئی ایم ایف کی پریس ریلیز کے مطابق اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پالیسی ترجیحات کا مرکز بدستور میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنا اور اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانا ہے تاکہ عوامی مالیات کو مضبوط کیا جائے، مسابقت کی فضا بہتر بنائی جائے، پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو، سماجی تحفظ کے نظام اور انسانی سرمائے کو تقویت ملے، سرکاری اداروں میں اصلاحات کی جائیں اور عوامی خدمات کی فراہمی کے ساتھ توانائی شعبے کی پائیداری کو بہتر بنایا جا سکے۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ ان اصلاحات پر عملدرآمد جو گزشتہ 23 آئی ایم ایف پروگراموں کی طرح خود آئی ایم ایف ہی کی جانب سے وضع کی گئی ہیں، مقامی ماہرینِ معاشیات کی طرف سے تیار کردہ نہیں ہیں، اس لیے ان میں مقامی سطح پر سوچے گئے کسی آؤٹ آف دی باکس (غیر روایتی) حل کی کمی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔
بجلی اور ٹیکس کے ذیلی شعبوں میں بڑی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے جن کا مرکز ایسی پالیسیوں کی تشکیل اور مؤثر نفاذ ہونا چاہیے جو مسائل کا جامع اور پائیدار حل پیش کریں۔ ان میں ایسی پالیسی ناگزیر ہے جو موجودہ آئی پی پیز کے ساتھ کیپیسٹی پیمنٹس کے معاہدوں کے مسئلے کو حل کرے، اس سے قبل کہ متبادل توانائی کو مزید فروغ دیا جائے، کیونکہ اس نے نیشنل گرڈ سے طلب میں کمی کے ذریعے کیپیسٹی پیمنٹس کے بوجھ میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح سیلز ٹیکس جیسے بالواسطہ ٹیکسوں جو براہِ راست صارفین پر منتقل ہو جاتے ہیں، کے نفاذ کے لیے ایف بی آر کے سخت گیر اقدامات کے بجائے توجہ ادائیگی کی سکت کے اصول کے تحت ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے پر ہونی چاہیے، مثلاً زرعی آمدنی پر ٹیکس کی شرح کو تنخواہ دار طبقے کے برابر لانا۔
اختتاماً بزنس ریکارڈر مسلسل اس ضرورت پر زور دیتا رہا ہے کہ اگلے سال کے بجٹ میں غیر ضروری اخراجات کو کم کر کے کرنٹ ایکسپینڈیچر میں کم از کم 2 ٹریلین روپے کی کمی لائی جائے۔ اس کے علاوہ پنشن اصلاحات متعارف کرائی جائیں جن میں ملازمین کے حصے کا بھی تصور ہو تاکہ پنشن کے لیے بجٹ سے مختص رقم میں کمی آئے اور ایف بی آر پر غیر حقیقی سالانہ اہداف پورا کرنے کا دباؤ کم ہو۔ یہ صورتحال ایف بی آر کو ان ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھنے کے قابل بنائے گی جن کا مقصد بالواسطہ ٹیکسوں کے بجائے ادائیگی کی سکت کی بنیاد پر براہِ راست ٹیکسوں میں اضافہ کرنا ہے کیونکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026