دنیا

ایران کے ساتھ جنگ بندی ’لائف سپورٹ‘ پر قائم ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

  • امریکی صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو دوبارہ تحفظ فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ’’لائف سپورٹ‘‘ پر ہے اور وہ جنگ میں ’’مکمل فتح‘‘ کے حصول کی کوششوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو دوبارہ بحری تحفظ فراہم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

جنگ کے امریکی معیشت پر اثرات کے باعث اندرونِ ملک بڑھتے دباؤ کے درمیان ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ہفتے کے اختتام پر واشنگٹن کے مطالبات مسترد کیے جانے کے بعد پہلے ہی کمزور جنگ بندی اب ’’انتہائی نازک‘‘ ہو چکی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میں کہوں گا کہ یہ اس وقت سب سے کمزور مرحلے پر ہے، یہ لائف سپورٹ پر ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’میں کہوں گا کہ جنگ بندی بڑے پیمانے پر لائف سپورٹ پر برقرار ہے۔‘‘

دوسری جانب ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور دیگر تجارتی جہازوں کو امریکی بحریہ کی حفاظت فراہم کرنے کی سابقہ کوشش دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

’’آپریشن فریڈم‘‘ نامی یہ اقدام پہلی بار 6 مئی کو شروع کیا گیا تھا، تاہم دو دن سے بھی کم عرصے بعد اسے ترک کر دیا گیا۔

امریکا نے ایران کو کشیدگی میں کمی کے لیے کچھ شرائط پیش کی تھیں، جن کا زیادہ تر تعلق ایران کے جوہری پروگرام میں توسیع روکنے سے تھا۔

ہفتے کے اختتام پر ایران نے جوابی تجاویز پیش کیں، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں ’’بکواس‘‘ قرار دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس تعطل کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا پیچھے ہٹ جائے گا۔

انہوں نے کہا، ’’ہم مکمل فتح حاصل کریں گے۔‘‘ ان کے بقول ایران سمجھتا ہے کہ ’’میں اس معاملے سے تھک جاؤں گا، بور ہو جاؤں گا یا مجھ پر دباؤ ہوگا، لیکن کوئی دباؤ نہیں ہے۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو ٹرمپ نے کہا کہ وہاں کی قیادت ’’اعتدال پسندوں‘‘ اور ’’دیوانوں‘‘ میں تقسیم ہے۔

انہوں نے کہا، ’’دیوانے آخری حد تک لڑنا چاہتے ہیں، لیکن آپ جانتے ہیں، یہ ایک بہت مختصر جنگ ہوگی۔‘‘