خلیج میں جھڑپوں کی شدت میں اضافہ، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے آثار معدوم
- واشنگٹن کو امریکی تجویز پر تہران کے جواب کا انتظار ہے
امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتہ کو بھی جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے، کیونکہ دونوں فریقوں نے خلیج میں نازک جنگ بندی کے دوران ایک دوسرے پر فائرنگ کی جبکہ امریکی انٹیلی جنس کے ایک تجزیے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ تہران کئی ماہ تک بحری ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں جنگ بندی شروع ہونے کے ایک ماہ بعد سے اب تک کی سب سے بڑی جھڑپیں دیکھنے میں آئیں جبکہ جمعہ کو متحدہ عرب امارات کو ایک بار پھر حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
واشنگٹن ایران کی جانب سے امریکی تجویز کے جواب کا انتظار کررہا ہے جس کا مقصد باضابطہ طور پر جنگ کا خاتمہ کرنا ہے، اس کے بعد زیادہ حساس معاملات جن میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ جمعہ کو روم میں خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ کو اسی روز جواب کی توقع تھی، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق تہران ابھی اپنی حکمتِ عملی پر غور کر رہا تھا۔
جھڑپیں جنگ بندی کے لیے بڑا چیلنج
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق جمعہ کو آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج اور امریکی جہازوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔ بعد ازاں تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ایرانی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صورتحال اب پرسکون ہے، تاہم خبردار کیا کہ مزید جھڑپوں کا امکان موجود ہے۔
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران سے منسلک دو ایسے جہازوں کو نشانہ بنایا جو ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے اور ایک امریکی لڑاکا طیارے نے ان کی چمنیوں پر ضرب لگائی اور انہیں واپس مڑنے پر مجبور کردیا۔
تہران نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے کے ذریعے غیر ایرانی بحری جہازوں کو بڑی حد تک روک دیا ہے، جنگ سے پہلے دنیا کی تیل کی مجموعی سپلائی کا پانچواں حصہ اس تنگ آبی راستے سے گزرتا تھا۔
امریکہ نے گزشتہ ماہ ایرانی بحری جہازوں پر ناکہ بندی عائد کردی تھی، تاہم معاملے سے واقف ایک امریکی اہلکار کے مطابق سی آئی اے کے ایک تخمینے سے اشارہ ملا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی سے ایران کو مزید تقریباً چار ماہ تک کسی شدید معاشی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس صورتحال نے تہران کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفت پر سوالات کھڑے کردیے ہیں، خاص طور پر ایک ایسے تنازع میں جو ووٹرز اور امریکی اتحادیوں کے درمیان پہلے ہی غیرمقبول رہا ہے۔
ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے سی آئی اے کے اس تجزیے سے متعلق دعوؤں کو غلط قرار دیا جسے سب سے پہلے واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا۔
جھڑپوں کا سلسلہ آبی گزرگاہ سے باہر تک پھیل گیا۔ متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جمعہ کو ایران کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں اور تین ڈرونز کا مقابلہ کیا جن کے نتیجے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے۔
ایران نے تواتر کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اسے کشیدگی میں ایک بڑا اضافہ قرار دیا کیونکہ ایران نے اس ہفتے ان حملوں میں تیزی لائی ہے۔ یہ تیزی صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے ردِعمل میں آئی جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پروجیکٹ فریڈم شروع کرنے کا کہا تھا، تاہم انہوں نے 48 گھنٹوں بعد اسے معطل کردیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ 7 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی حالیہ جھڑپوں کے باوجود اب بھی برقرار ہے جبکہ دوسری جانب ایران نے امریکہ پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا کہ جب بھی میز پر کوئی سفارتی حل پیش کیا جاتا ہے، امریکہ ایک لاپرواہ فوجی مہم جوئی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، جمعرات کی رات گئے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر امریکی بحریہ کے حملے کے نتیجے میں عملے کا ایک رکن مارا گیا، 10 زخمی اور چھ افراد لاپتہ ہو گئے۔
امریکہ کی سفارتی کوششیں تیز، پابندیوں میں مزید اضافہ
امریکہ کو اس تنازع میں بین الاقوامی سطح پر بہت کم حمایت ملی ہے۔ اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی سے ملاقات کے بعد مارکو روبیو نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ اٹلی اور دیگر اتحادی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی واشنگٹن کی کوششوں کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران کو ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے دیا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گی۔
سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے ساتھ امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے پابندیوں میں بھی اضافہ کردیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے دورہ چین اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے چند روز قبل امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کو 10 افراد اور کمپنیوں پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان میں چین اور ہانگ کانگ میں مقیم کئی ادارے اور افراد شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایرانی فوج کو ہتھیاروں کے حصول اور تہران کے شاہد ڈرونز کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی فراہمی میں مدد دی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایرانی غیر قانونی تجارت کی حمایت کرنے والی کسی بھی غیر ملکی کمپنی کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے اور چینی آزاد آئل ریفائنریوں سے منسلک مالیاتی اداروں سمیت دیگر غیر ملکی مالیاتی اداروں پر ثانوی پابندیاں عائد کرسکتا ہے۔