پاکستان

وزیراعظم نے ٹیکس تنازعات کے نظام میں اصلاحات کے منصوبے کی منظوری دیدی

  • یہ منصوبہ وزیراعظم کی 10 رکنی ٹاسک فورس برائے ٹیکس لٹیگیشن فریم ورک کے چیئرمین شاد محمد خان نے پیش کیا
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز ملک کے ٹیکس تنازعات کے نظام میں جامع اصلاحات کے لیے ایک مفصل ایکشن پلان کی منظوری دے دی، جسے حکومتی ٹاسک فورس نے پیش کیا۔ اس پلان میں چھ اہم اصلاحات شامل ہیں۔

یہ منصوبہ وزیراعظم کی 10 رکنی ٹاسک فورس برائے ٹیکس لٹیگیشن فریم ورک کے چیئرمین شاد محمد خان نے پیش کیا، جس میں کیس اسکروٹنی کمیٹیوں کا قیام، سینٹرلائزڈ لٹیگیشن مینجمنٹ سسٹم (سی ایل ایم ایس) کی تشکیل، اور تمام افسران بشمول کمشنرز کی کارکردگی کو ٹیکس مقدمات کے نتائج سے منسلک کرنا شامل ہے۔

مارچ 2026 میں قائم کی گئی اس ٹاسک فورس کو ملک کے ٹیکس تنازعات کے نظام کی ازسرنو تشکیل اور مقدمات کے جلد از جلد فیصلے کو یقینی بنانے کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران شاد محمد خان نے ٹیکس مقدمات کے انتظام کو جدید بنانے اور ادارے میں جوابدہی کو مضبوط کرنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے رپورٹ کی تیاری پر ٹاسک فورس کی محنت اور لگن کو سراہا اور کہا کہ ایف بی آر میں جاری ڈیجیٹائزیشن اور اصلاحاتی اقدامات پہلے ہی بہتر نتائج دے رہے ہیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ایکشن پلان کو واضح ٹائم لائنز کے ساتھ نافذ کیا جائے اور متبادل تنازعہ حل (اے ڈی آر) نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ عدالتوں پر بوجھ کم ہو اور ٹیکس مقدمات کے فیصلے تیز ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ نظام عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کا بوجھ کم کرے گا اور ٹیکس کیسز کے فیصلوں میں تیزی لائے گا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مجوزہ سی ایل ایم ایس کو جلد از جلد قائم کیا جائے اور ایف بی آر کے قانونی ونگ میں بہترین افراد کو میرٹ کی بنیاد پر تعینات کیا جائے۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ڈیجیٹل سی ایل ایم ایس ٹیکس تنازعات کے ڈیٹا کو منظم اور ٹریک کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جس سے درست رپورٹنگ، بروقت فالو اپ اور مقدمات کی پیشرفت کی بہتر نگرانی ممکن ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال متبادل تنازعہ حل (اے ڈی آر) فورم کے ذریعے اب تک قومی خزانے کو 2.4 ارب روپے کی وصولی ہو چکی ہے۔

چھ نکاتی اصلاحاتی حکمت عملی کا مقصد مقدمات کے عمل کو ہموار بنانا، جوابدہی کو مضبوط کرنا، کارکردگی کی نگرانی کو بہتر بنانا اور کیس مینجمنٹ کو ڈیجیٹائز کرنا ہے تاکہ فیصلوں میں تاخیر کو کم کیا جا سکے۔ کیس اسکروٹنی کمیٹیاں ٹیکس تنازعات کی قریبی نگرانی کریں گی، جبکہ افسران کی کارکردگی کو مقدمات کے نتائج سے جوڑنے سے ذمہ داری اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔

اجلاس میں وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل پاکستان منصور اعوان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور ٹاسک فورس کے ارکان نے شرکت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026