دنیا

وائٹ ہاؤس ڈنر فائرنگ کیس: ملزم پر خودکشی سے متعلق پابندیاں ختم کرنے کی درخواست

  • کول ٹوماس ایلن پر الزام ہے کہ انہوں نے 25 اپریل کو وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر کے موقع پر ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر دھاوا بولتے ہوئے فائرنگ کی
شائع May 3, 2026 اپ ڈیٹ May 3, 2026 10:56am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملے کی کوشش کے الزام میں گرفتار شخص کے وکلا نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کے موکل پر جیل میں عائد خودکشی سے متعلق پابندیاں ختم کی جائیں۔

کول ٹوماس ایلن پر الزام ہے کہ انہوں نے 25 اپریل کو وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر کے موقع پر ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر دھاوا بولتے ہوئے فائرنگ کی۔ بعد ازاں انہیں گرفتار کر کے واشنگٹن ڈی سی کی جیل میں منتقل کیا گیا۔

ابتدائی طور پر ایلن کو ایک سیف سیل میں رکھا گیا، جو کہ ایک محفوظ اور پیڈڈ سیل ہوتا ہے، جہاں 24 گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے اور قیدی کو خصوصی حفاظتی واسکٹ پہنائی جاتی ہے۔ بعد میں ان کی حیثیت خودکشی سے احتیاط میں تبدیل کر دی گئی، جس کے تحت انہیں فون کالز، ملاقاتوں اور دیگر سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

وکلاء کے مطابق ایک نرس نے ان پابندیوں کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم یہ بدستور برقرار رہیں۔ دفاعی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات دراصل سزا کے مترادف ہیں اور ان سے قیدی کو بنیادی سہولیات، جیسے جیل ٹیبلٹ کے ذریعے اہل خانہ سے رابطہ، سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

کول ٹوماس ایلن پر اقدامِ قتل، پرتشدد جرم کے دوران فائرنگ اور غیر قانونی طور پر اسلحہ منتقل کرنے کے الزامات عائد ہیں، تاہم انہوں نے ابھی تک جرم قبول نہیں کیا۔