کاروبار اور معیشت

وزیر خزانہ کا سرمایہ کار دوست اور شفاف معیشت کے فروغ کے عزم کا اعادہ

  • ریٹ معیشت کے پیداواری شعبوں میں منتقل کرنے کیلئے ادارہ جاتی اور شفاف طریقہ کار فراہم کرتا ہے، محمد اورنگزیب
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایک ایسا سہولت کار، شفاف اور مستحکم پالیسی ماحول فراہم کیا جائے گا جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، جدت کو فروغ دے اور پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کو مضبوط بنائے۔ ساتھ ہی یہ اقدامات پائیدار اور ہمہ گیر معاشی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

فنانس ڈویژن کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریٹ) کی ترقی کیلئے ترغیب دلانے اور سہولت کاری سے متعلق فوکس گروپ کے ورچوئل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں ان اقدامات پر غور و خوض کیا گیا جن کا مقصد ریٹ فریم ورک کو مضبوط بنانا اور معاشی سرگرمیوں اور کیپٹل مارکیٹ کی ترقی میں اس کے کردار کو بڑھانا ہے۔

اجلاس کے دوران وزیرِ خزانہ نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی فعال شرکت کو سراہا اور پالیسی سازی کے مکالمے میں کاروباری برادری، مالیاتی اداروں اور مارکیٹ کے شرکاء کے مثبت کردار کا اعتراف کیا۔

وزیرِ خزانہ نے مسلسل اور منظم مشاورت کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اصلاحاتی کوششیں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہوں، عملی حقائق پر مبنی ہوں اور وسیع تر معاشی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ریٹ معیشت کے پیداواری شعبوں میں منتقل کرنے کیلئے ادارہ جاتی اور شفاف طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔

گفتگو میں ان اہم شعبوں کا احاطہ کیا گیا جو ریٹ سیکٹر کی ترقی اور وسعت کے لیے مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ اجلاس میں ٹیکسیشن فریم ورک کو بہتر بنانے، ریٹ جاری کرنے والوں کی سہولت کے لیے عمل کو سہل بنانے اور مارکیٹ کے مجموعی ماحول (ایکو سسٹم) کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا تاکہ سرمایہ کاروں، بالخصوص ریٹیل سیکٹر کی شرکت کو بڑھایا جا سکے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق شرکاء نے نوٹ کیا کہ اگرچہ پاکستان میں ریٹ مارکیٹ نے ابتدائی ترقی کی ہے لیکن ٹارگٹڈ پالیسی اقدامات اور بہتر ہم آہنگی کے ذریعے اس کی رسائی کو مزید وسعت دینے کی بھرپور گنجائش موجود ہے۔

اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے طریقہ کار کی خامیوں کو دور کرنے، ریگولیٹری تقاضوں میں وضاحت یقینی بنانے اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کو کلیدی ضرورت قرار دیا گیا۔

“وزیرِ خزانہ نے ریٹ کے اس کردار پر بھی روشنی ڈالی جو یہ معیشت کو دستاویزی بنانے (ڈاکیومنٹیشن)، ریئل اسٹیٹ، تعمیرات اور ڈیولپمنٹ کے شعبوں کو باقاعدہ (فارمل) بنانے اور سرمائے کی بہتر تقسیم اور معاشی سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں ادا کرتے ہیں۔

بات چیت کا مرکز سرمایہ کاروں کی شرکت کو وسعت دینے اور مارکیٹ کی گہرائی کو بہتر بنانے پر بھی رہا۔ سرمایہ کاروں میں آگاہی پیدا کرنے، ریٹ انسٹرومنٹس پر اعتماد بڑھانے اور سیکنڈری مارکیٹ کے فعال طریقہ کار کو یقینی بنانے کو کلیدی قرار دیا گیا، تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے مارکیٹ میں داخلے اور خروج میں آسانی ہو اور مارکیٹ کی ترقی برقرار رہے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان کے ریٹ فریم ورک کو بدلتے ہوئے عالمی رواج کے مطابق ڈھالا جائے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سادگی، وضاحت اور عمل درآمد میں آسانی کو بھی برقرار رکھا جائے۔

شرکاء نے غیر ضروری پیچیدگی پیدا کیے بغیر، مارکیٹ کی ترقی میں مؤثر معاونت کے لیے عملی اور متوازن اقدامات اپنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس کا اختتام مستقبل کے لائحہ عمل پر ایک مشترکہ مفاہمت کے ساتھ ہوا، جس میں اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل رابطے اور نشاندہی کیے گئے شعبوں پر بروقت پیروی (فالو اپ) شامل ہے۔