دنیا

امریکہ، ایران کشیدگی: تازہ دھمکیوں کے بعد تیل مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ

  • ایئروسپیس فورس کمانڈر ماجد موسوی کا بیان: علاقائی اڈوں کے ساتھ جو ہوا، وہی آپ کے جنگی جہازوں کے ساتھ بھی ہوگا
شائع April 30, 2026 اپ ڈیٹ April 30, 2026 09:41pm

ایران نے جمعرات کو کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے دوبارہ حملے شروع کیے تو وہ امریکی ٹھکانوں پر ”طویل اور دردناک حملوں“ سے جواب دے گا، جبکہ اس نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت دوبارہ مضبوط کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے، جس سے امریکہ کے اس راستے کو کھولنے کے لیے اتحاد بنانے کے منصوبے مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کو شروع ہوئے دو ماہ گزر چکے ہیں، اور یہ اہم بحری گزرگاہ اب بھی بند ہے، جس کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی قیمتوں میں تیزی پیدا کر دی ہے اور معاشی سست روی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

تنازع کے حل کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ 8 اپریل سے جنگ بندی تو نافذ ہے، تاہم ایران اب بھی آبنائے ہرمز کو بند رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات پر بحری ناکہ بندی بتائی جاتی ہے، جو اس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعرات کو ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کے منصوبوں پر بریفنگ دی جانی ہے تاکہ تہران کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ بریفنگ ممکنہ کارروائیوں کے مختلف آپشنز پر مشتمل ہوگی، جنہیں اس سے قبل بھی امریکی منصوبہ بندی کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس خبر کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتیں ایک موقع پر 126 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، تاہم بعد میں یہ 113 ڈالر کے قریب آ گئیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملے دوبارہ کیے تو اس کے خطے میں موجود اڈوں پر “طویل اور دردناک” جوابی کارروائیاں کی جائیں گی۔

ایئروسپیس فورس کے کمانڈر مجید موسوی کے حوالے سے ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ”ہم نے آپ کے علاقائی اڈوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ دیکھا ہے، اور ہم آپ کے جنگی جہازوں کے ساتھ بھی وہی ہوتا دیکھیں گے۔“

ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کا مؤقف

سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک تحریری پیغام میں کہا ہے کہ تہران ”نئے انتظام“ کے تحت آبی گزرگاہ میں دشمن کے ”غلط استعمال“ کا خاتمہ کرے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس پر اپنی گرفت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا، ”دور دراز سے آنے والے غیر ملکیوں کا وہاں کوئی مقام نہیں، سوائے اس کے کہ وہ اس کے پانیوں کی تہہ میں ہوں۔“

ایران کے اسپیکر اور وزیر خارجہ نے بھی آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا عندیہ دیا ہے۔

برینٹ کی قیمتیں اس جنگ کے آغاز سے اب تک دوگنی ہو چکی ہیں، جس کے باعث عالمی مہنگائی میں اضافہ اور پٹرول پمپ پر قیمتوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رکاوٹ وسط سال تک جاری رہی تو عالمی معاشی ترقی سست پڑ جائے گی، مہنگائی بڑھے گی اور کروڑوں مزید افراد غربت اور شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”جتنی دیر یہ اہم شہ رگ بند رہے گی، نقصان کو واپس پلٹانا اتنا ہی مشکل ہو جائے گا۔“

خطے میں کشیدگی اور سفارتی کوششیں

ایران نے آبنائے ہرمز سے غیر ملکی جہازوں کی آمدورفت محدود کر دی ہے جبکہ اس نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں، انفراسٹرکچر اور کمپنیوں پر ڈرون اور میزائل حملے بھی کیے ہیں۔

ایمیزون نے کہا ہے کہ بحرین اور متحدہ عرب امارات میں اس کے کلاؤڈ آپریشنز کی بحالی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

اسی دوران ایک امریکی منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ زمینی افواج کے ذریعے آبنائے ہرمز کے کچھ حصے پر کنٹرول حاصل کر کے اسے دوبارہ تجارتی آمدورفت کے لیے کھولا جائے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک نئی ” میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ ( ایم ایف سی)“ نامی اتحاد بنانے کی تجویز دی ہے تاکہ جنگ کے بعد خطے میں بحری سلامتی کا نیا نظام قائم کیا جا سکے۔

فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک نے اس اتحاد میں شمولیت پر بات چیت کی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف جنگ کے خاتمے کے بعد اس میں کردار ادا کریں گے۔

جاپان نے بھی ایران سے بات چیت کر کے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان بطور ثالث دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور ممکنہ معاہدے کے لیے کوشش کر رہا ہے، تاہم بات چیت ابھی تعطل کا شکار ہے۔

جرمن چانسلر نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ وقت ضائع نہ کرے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک سفارت کاری کی طرف واپس نہیں آئے گا جب تک امریکہ اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ایران کی معیشت دباؤ کا شکار ہے، لیکن اس کے حکمران اور پاسدارانِ انقلاب ملک پر سخت گرفت کے باعث طویل مدت تک مزاحمت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔