زرمبادلہ ذخائر جون تک 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، گورنر اسٹیٹ بینک
- رواں مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 25.4 ارب ڈالر کے واجب الادا قرضوں میں سے 21.2 ارب ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے، جمیل احمد
بیرونی قرضوں کی بھاری ادائیگیوں کے باوجود گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پرامید ہیں کہ رواں سال جون تک اسٹیٹ بینک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر 18 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔
ایم پی سی کے اجلاس کے بعد تجزیہ کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے جون تک 18 ارب ڈالر کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کا ہدف حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 25.4 ارب ڈالر کے واجب الادا قرضوں میں سے 21.2 ارب ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں یا ان کی مدت میں توسیع کردی گئی ہے جس کے بعد اب 4.2 ارب ڈالر باقی رہ گئے ہیں۔ اس بقایا رقم میں سے 2.7 ارب ڈالر کے رول اوور ہونے کی توقع ہے جس سے بقیہ مدت (اپریل تا جون) کے لیے قرض کی واپسی کا خالص بوجھ کم ہو کر 1.5 ارب ڈالر رہ جائے گا۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر اور یورو بانڈ کی مد میں 1.3 ارب ڈالر جیسی بڑی ادائیگیوں کے باوجود، بہتر ان فلوز اور رول اوور انتظامات کی بدولت غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر 15 سے 16 ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم رہے ہیں۔
مالی معاونت کے حوالے سے حکومت نے دوطرفہ انتظامات اور اپریل میں یورو بانڈ کے اجرا کے ذریعے بیرونی فنڈز کا پیشگی بندوبست کیا ہے جس سے قرضوں اور واجبات کی حالیہ ادائیگیوں کے اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
اس تناظر میں اسٹیٹ بینک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر جون 2026 تک 18 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جو کہ تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہوں گے، یہ وہ سطح ہے جو مارکیٹ میں استحکام اور اعتماد پیدا کرنے کیلئے کافی سمجھی جاتی ہے۔
حالیہ علاقائی تنازع کے بعد مالی سال 26 کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کا تخمینہ 41 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جو بحران سے پہلے کے 42 ارب ڈالر کے تخمینے سے تھوڑا کم ہے۔ یہ اندازہ اسٹریس ٹیسٹنگ پر مبنی ہے جبکہ اپریل کے ابتدائی رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ رمضان سے متعلق موسمی اثرات کو نکال کر دیکھا جائے تو ترسیلاتِ زر بڑی حد تک مستحکم رہی ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے غیر یقینی عالمی اقتصادی حالات کے پیشِ نظر غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026