دنیا

کنگ چارلس امریکہ پہنچ گئے، ایران جنگ پر اختلاف کے باوجود سرکاری دورہ جاری

  • یہ دورہ کنگ چارلس کے دورِ حکومت کا اب تک کا سب سے اہم اور نمایاں سرکاری دورہ قرار دیا جا رہا ہے
شائع April 28, 2026 اپ ڈیٹ April 28, 2026 09:55am

برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس اور ملکہ کیملا پیر کے روز چار روزہ سرکاری دورے پر امریکہ پہنچ گئے، جہاں ان کا استقبال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے کیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔

یہ دورہ کنگ چارلس کے دورِ حکومت کا اب تک کا سب سے اہم اور نمایاں سرکاری دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر امریکہ کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات بھی منائی جا رہی ہیں۔ یہ دو دہائیوں بعد کسی برطانوی بادشاہ کا امریکہ کا پہلا دورہ ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے رسمی خیرسگالی کا تبادلہ کیا، جس کے بعد بادشاہ اور ملکہ کے اعزاز میں چائے کی تقریب منعقد کی گئی۔ بعد ازاں برطانوی سفیر کی رہائش گاہ پر استقبالیہ دیا گیا جس میں امریکی سینیٹر ٹِڈ کروز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

دورے کے دوران کنگ چارلس امریکی کانگریس سے خطاب بھی کریں گے اور وائٹ ہاؤس میں شاہانہ سرکاری عشائیہ بھی منعقد ہوگا۔ بعد میں وہ نیویارک کا دورہ کریں گے جہاں 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر حاضری دیں گے۔

اس دورے کا مقصد برطانیہ اور امریکہ کے درمیان خصوصی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے، تاہم ایران جنگ کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نے سفارتی ماحول کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ برطانوی شاہی خاندان کے حامی سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کی حکومت کے ساتھ بعض پالیسی اختلافات بدستور موجود ہیں، جو اس دورے کے دوران پسِ منظر میں رہیں گے۔