دنیا

وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کا ممکنہ ہدف ٹرمپ تھے، امریکی عہدیدار

  • حملے کا ہدف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان تھے
شائع April 27, 2026 اپ ڈیٹ April 27, 2026 09:11am

امریکہ میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے نے سیکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔ حکام کے مطابق ایک مسلح شخص نے ہوٹل کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر فائرنگ کی، جس کا ممکنہ ہدف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان تھے۔

امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے بتایا کہ ملزم نے واشنگٹن کے ہوٹل میں سیکیورٹی اہلکار پر شاٹ گن سے حملہ کیا، تاہم اہلکار بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت محفوظ رہا۔ واقعے کے فوراً بعد ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

حکام کے مطابق ملزم کو موقع پر ہی قابو کر کے گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس پر وفاقی عدالت میں اہلکار پر حملہ، فائرنگ اور قتل کی کوشش کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور اکیلا تھا اور اس کے ممکنہ طور پر لاس اینجلس سے واشنگٹن تک سفر کرنے کے شواہد ملے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم کے پاس شاٹ گن، پستول اور کئی چاقو موجود تھے، جبکہ اس کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے۔

واقعے کے بعد ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ خود اس حملے کا ہدف تھے۔ یاد رہے کہ 2024 کے بعد یہ ان پر تیسری بار قاتلانہ حملے کی کوشش ہے۔

دنیا بھر کے رہنماؤں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیا۔ نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے کہا کہ ایسے واقعات آزاد معاشروں کے لیے خطرہ ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر امریکی اعلیٰ قیادت کی سیکیورٹی پر سنجیدہ خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔