دنیا

اسرائیل کا حزب اللہ پر شدید حملوں کا اعلان، جنوبی لبنان میں 4 افراد ہلاک

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ جنگ بندی کو مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا ہے
شائع April 26, 2026 اپ ڈیٹ April 26, 2026 12:56pm

اسرائیل نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر بھرپور اور شدید حملے کرے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے نازک جنگ بندی مزید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ جنگ بندی کو مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ فائر کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی نے اگرچہ بڑی حد تک لڑائی میں کمی کی ہے، تاہم سرحدی علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایک خود ساختہ بفر زون قائم کر رکھا ہے جہاں اس کی فوجی موجودگی برقرار ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے بیان جاری کیا کہ فوج کو حزب اللہ کے اہداف پر سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے رات کے وقت جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا اور متعدد جنگجوؤں پر حملے کیے۔ بعد ازاں فوج نے کہا کہ اس نے حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورسز سے منسلک تنصیبات پر بھی کارروائی کی ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تصدیق جاری ہے اور یہ واضح نہیں کہ آیا وہ افراد انہی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے ہیں یا نہیں۔

اسرائیلی فوج نے شہریوں کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں دریائے لیتانی کے علاقے کے قریب نہ جائیں۔ فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک مشتبہ فضائی ہدف کو بھی مار گرایا ہے، جبکہ حزب اللہ کے دو راکٹ شمالی اسرائیل کی طرف فائر کیے گئے جن میں سے ایک کو ناکام بنا دیا گیا۔

دوسری جانب حزب اللہ کے ایک رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی بے معنی ہو چکی ہے، خاص طور پر جب اسے حال ہی میں مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھایا گیا۔ اصل جنگ بندی اتوار کو ختم ہونا تھی، تاہم اب اس کی مدت میں توسیع کے باوجود کشیدگی برقرار ہے۔