ایل این جی مارکیٹ 2027 تک دبائو کا شکار رہ سکتی ہے، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی
- تنازع کے نتیجے میں تقریباً 20 فیصد ایل این جی سپلائی متاثر ہو چکی ہے، رپورٹ
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ امریکا-ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کے سبب مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی 2027 کے اختتام تک دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو خلیجی آئل ٹینکرز کے لیے مؤثر طور پر بند کرنے اور پڑوسی ممالک میں تیل و گیس کے اہداف پر حملوں کے بعد توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پیرس میں قائم ایجنسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ قلیل مدتی سپلائی میں کمی اور پیداواری صلاحیت میں سست رفتار اضافے کے باعث 2026 سے 2030 کے دوران ایل این جی کی فراہمی میں مجموعی طور پر تقریباً 120 ارب مکعب میٹر کی کمی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تنازع کے نتیجے میں تقریباً 20 فیصد ایل این جی سپلائی متاثر ہو چکی ہے، جبکہ نئی سرمایہ کاری میں بھی تاخیر کا خدشہ ہے۔
اگرچہ دیگر خطوں میں نئے منصوبے وقت کے ساتھ ان خساروں کو پورا کر سکتے ہیں، تاہم 2026 اور 2027 کے دوران مارکیٹ میں سختی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ادھر توانائی کی بلند قیمتیں گیس کی طلب کو بھی کم کر سکتی ہیں، کیونکہ کئی ممالک توانائی بچت اقدامات اپنا رہے ہیں اور قابل تجدید توانائی کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل بلند قیمتیں عالمی مہنگائی کو بڑھا سکتی ہیں اور معاشی ترقی کو متاثر کر سکتی ہیں۔