برآمدات کو 100 فیصد وفاقی سبجیکٹ قرار دیا جائے، ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کا مطالبہ
- برآمدات سے متعلق پالیسی، مراعات، ٹیکس اور سہولت کاری صرف وفاقی حکومت کے تحت یکساں قوانین کے ساتھ ہونی چاہیے، جاوید بلوانی
آئندہ بجٹ 2026-27 سے قبل بڑے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور اپیرل سیکٹر کی تنظیموں نے حکومت سے مشترکہ مطالبہ کیا ہے کہ برآمدات کو آئینی اور انتظامی طور پر 100 فیصد وفاقی سبجیکٹ قرار دیا جائے اور اسے ایک واحد ون ونڈو وفاقی اتھارٹی کے تحت لایا جائے۔
یہ مطالبہ پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین محمد جاوید بلوانی نے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) میں ملاقات کے دوران پیش کیا۔ یہ تجاویز آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے مشترکہ سفارشات کا حصہ ہیں۔
جاوید بلوانی نے کہا کہ برآمدات سے متعلق پالیسی، مراعات، ٹیکس اور سہولت کاری صرف وفاقی حکومت کے تحت یکساں قوانین کے ساتھ ہونی چاہیے تاکہ صوبائی سطح پر متضاد تشریحات اور ریگولیٹری پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق برآمدات اور درآمدات کی پالیسیوں میں یکسانیت ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک واحد وفاقی ون ونڈو اتھارٹی کاروبار میں آسانی، انتظامی پیچیدگیوں میں کمی اور پاکستان کی عالمی مسابقت میں بہتری کا باعث بنے گی۔
یہ مطالبہ متعدد برآمدی تنظیموں جیسے پاکستان ہوزری، نِٹ ویئر، ریڈی میڈ گارمنٹس، ٹاول، بیڈ ویئر، ڈینم، ٹیکسٹائل کونسل، فروٹ اینڈ ویجیٹیبل اور رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشنز نے بھی مشترکہ طور پر منظور کیا۔
تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر فوری مالی اور انتظامی اصلاحات نہ کی گئیں تو ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر، جو ملک کی 56 فیصد برآمدات میں حصہ ڈالتا ہے، شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس شعبے کے منافع کی شرح صرف 2 سے 3 فیصد رہ گئی ہے۔
برآمد کنندگان نے فوری طور پر فکسڈ ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا، جبکہ موجودہ نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) کو غیر مؤثر قرار دیا۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں مجموعی ٹیکس بوجھ 45 فیصد تک پہنچ چکا ہے جسے ٹرپل ٹیکسیشن قرار دیا گیا۔
انہوں نے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو پرانی شکل میں بحال کرنے اور ڈیوٹی لیس لوکل سپلائی دوبارہ شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا، کیونکہ موجودہ نظام سے لیکویڈیٹی بحران پیدا ہو رہا ہے۔
مزید برآں ڈی ایل ٹی ایل اسکیم کی بحالی، یوٹیلیٹی ٹیرف میں کمی، ریجنل کمپٹیٹو انرجی ریٹس اور سوشل سکیورٹی کے آسان ماڈل کے نفاذ کی سفارش بھی کی گئی۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے مطالبات کو سنا اور کہا کہ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ سے قبل ملک بھر میں مشاورت جاری ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026