پاکستان

آئی ایم ایف نے بجٹ ترجیحات واضح کر دیں

  • آئندہ بجٹ ملک کے محدود ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر مرکوز ہوگا، آئی ایم ایف
شائع April 19, 2026 اپ ڈیٹ April 19, 2026 09:48am

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ پاکستان کا آئندہ بجٹ، اس کے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تیسرے جائزے کے تحت، ملک کے محدود ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر مرکوز ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ زراعت، ریٹیل، رئیل اسٹیٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور برآمدی شعبوں کی آمدن پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2024-25 کے دوران عبوری طور پر 11.735 کھرب روپے (41.9 ارب ڈالر) ٹیکس جمع کیا، جو گزشتہ سال کے 9.3 کھرب روپے (33.2 ارب ڈالر) کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم یہ رقم سالانہ ہدف 12.3 کھرب روپے (43.9 ارب ڈالر) سے کم رہی۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے کہا کہ پاکستانی حکام 2026-27 کے لیے نیا مالیاتی منصوبہ اس اسٹاف لیول ایگریمنٹ (ایس ایل اے) کے مطابق تیار کر رہے ہیں جو گزشتہ ماہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے کے لیے طے پایا تھا۔ پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندہ ماہر بینیکی نے عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی کوششوں کا ہدف مالی سال 2027 میں جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر بنیادی سرپلس حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کو مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے اور وفاقی و صوبائی سطح پر بوجھ کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے تقویت دی جائے گی۔ آئندہ مالی سال، جو جولائی 2026 سے شروع ہوگا، میں حکومت کو صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں پر اخراجات بھی بڑھانے ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت ایسے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں ہر سال صوبوں کو وفاقی قابل تقسیم محاصل سے ملنے والے اربوں روپے میں کمی شامل ہے۔ تاہم صوبوں، خصوصاً سندھ، نے ان تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

آئی ایم ایف اپنے اصلاحاتی قرض پروگرام کے تحت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایندھن سبسڈیز ختم کرے اور ان شعبوں کی آمدن پر ٹیکس لگائے جو اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ پاکستان کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے نائب صدر برائے تحقیق عدنان سمیع شیخ کے مطابق کہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مزید شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے، نہ کہ لازمی طور پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے۔

ان کے مطابق ان شعبوں میں زراعت، برآمد کنندگان، آئی ٹی، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف حکومت سے غیر ٹیکس شدہ یا کم ٹیکس شدہ افراد اور شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

ماہر کے مطابق پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10 فیصد ہے، جو دنیا میں سب سے کم سمجھا جاتا ہے، جبکہ 24 کروڑ سے زائد آبادی والے اس ملک کے لیے یہ شرح 15 فیصد ہونی چاہیے۔

حکومت عموماً جون میں پارلیمنٹ میں نیا بجٹ پیش کرتی ہے کیونکہ مالی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے۔ عدنان شیخ نے کہا کہ میں سن رہا ہوں کہ حکومت نئے بجٹ میں بالائی آمدنی والے طبقات پر تنخواہوں پر ٹیکس کم کر سکتی ہے اور ممکن ہے کہ سپر ٹیکس میں بھی کمی کی جائے۔ یہ بنیادی طور پر ترقی پر مبنی بجٹ ہوگا۔

پاکستان کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والا اسٹاف لیول معاہدہ آئندہ چند ہفتوں میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

منظوری کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط موصول ہونے کی توقع ہے، جس میں تقریباً 1 ارب ڈالر ای ایف ایف کے تحت اور 20 کروڑ ڈالر 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت شامل ہوں گے۔

یہ فنڈنگ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دے گی، جبکہ ملک کو مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے اور متحدہ عرب امارات کو اس ماہ واجب الادا 3.5 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی جیسے بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔

ماہر بینیکی نے کہا آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط پاکستان کے لیے نہایت اہم معاونت فراہم کرے گی۔ اس مشکل وقت میں ہم حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ مشکل سے حاصل کیے گئے معاشی استحکام اور پالیسی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔