بحرانوں سے نمٹنے کا عوامی ماڈل، جب قیادت مثال بن کر ابھرتی ہے
- سندھ کابینہ کے ارکان نے تین ماہ کی تنخواہیں رضاکارانہ طور پر چھوڑ دیں، موٹر سائیکل مالکان کی ٹرانسفر فیس ختم، 2 ہزار روپے سبسڈی دی گئی
ایک ایسے ملک میں جہاں معاشی بدحالی کا سارا بوجھ روایتی طور پر معاشرے کے پسے ہوئے طبقات پر لاد دیا جاتا ہے، ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ ہوش ربا اضافے نے عام آدمی کی پہلے سے مفلوج قوتِ خرید کو مکمل طور پر نڈھال کر دیا ہے۔
پیٹرول کا 258 سے 378 روپے اور ڈیزل کا 520 روپے کی کمر توڑ سطح تک پہنچنا محض اعداد و شمار کا الٹ پھیر نہیں، بلکہ ٹرانسپورٹ اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں ایک ایسے طوفان کا پیش خیمہ تھا جس سے بچنا ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عموماً ایسے سنگین بحرانوں کا جواب ایوانِ اقتدار سے جاری ہونے والے کھوکھلے دلاسوں اور عوام کو کفایت شعاری کے وعظ پلانے تک ہی محدود رہتا ہے۔
تاہم ایندھن کی فراہمی کے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور عوام کو ان جھٹکوں سے بچانے کے لیے حکومتِ سندھ کی کثیر جہتی حکمتِ عملی ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ یہ حکومت کی جانب سے محض باتوں کے بجائے عملی اقدامات کی ایک نادر مثال ہے۔
اس مہم کا آغاز قیادت نے خود سے کیا۔ ایک بے مثال فیصلے میں سندھ کابینہ کے ارکان نے اپنی تین ماہ کی تنخواہیں رضاکارانہ طور پر چھوڑ دیں اور ساتھ ہی سرکاری محکموں کے ایندھن کے اخراجات میں کٹوتی کی۔ یہ علامتی مگر مالی لحاظ سے اہم قربانی عوامی اعتماد بحال کرتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ قیادت عوام کا دکھ بانٹنے کے لیے تیار ہے۔
لیکن اس مداخلت کا اصل پہلو ”ٹارگٹڈ فیول ڈفرنشل سبسڈی“ ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے کرایوں میں اضافہ دو وقت کی روٹی اور کام پر جانے کے درمیان کسی ایک کے انتخاب کا مسئلہ بن جاتا۔ صوبائی حکومت نے 2.2 ارب روپے ماہانہ کے بڑے پیکج کے ذریعے کرایوں کو پرانی سطح پر برقرار رکھا ہے۔ حکومت نے انٹرا سٹی بسوں کے لیے 2 لاکھ 40 ہزار روپے سے لے کر طویل سفر والی انٹر سٹی بسوں کے لیے 12 لاکھ روپے تک کی ماہانہ امداد دے کر نقل و حمل کے بڑے بحران کو ٹال دیا ہے۔
اس اقدام کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پرانے اور ناقص طریقہ کار کے بجائے مکمل طور پر ڈیجیٹل اور ایپ پر مبنی نظام اپنایا گیا ہے۔ یہ نظام ایکسائز، آر ٹی اے اور پی ٹی اے کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہے اور ادائیگیاں براہِ راست سندھ بینک کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ 10 ہزار سے زائد گاڑیوں اور ماہانہ 5 کروڑ 70 لاکھ مسافروں کو کور کرنے والے اس منصوبے نے یومیہ مسافر کی جیب میں اوسطاً 38 روپے کا ریلیف پہنچایا ہے۔
اسی طرح ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے شہر کی سب سے عام سواری موٹر سائیکل کے لیے بھی زبردست مداخلت کی ہے۔ حکومت رجسٹرڈ مالکان کو 2 ہزار روپے فی کس ایندھن سبسڈی دے رہی ہے۔ اس پالیسی کی خوبصورتی اس کے دوہرے مقصد میں ہے۔ صوبے کی 30 لاکھ موٹر سائیکلوں میں سے 20 لاکھ ٹرانسفر نہیں ہوئی تھیں۔ حکومت نے ٹرانسفر فیس، ریٹرن انسٹرومنٹ فیس اور بائیومیٹرک کی شرائط میں نرمی دے کر نہ صرف 6 ارب روپے کا ریلیف دیا بلکہ اسے تاریخ کی سب سے بڑی وہیکل ڈاکومنٹیشن مہم میں بدل دیا۔
یہ بحرانی انتظام شہری مراکز سے نکل کر دیہی علاقوں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں سے گندم کی کٹائی کا سیزن متاثر ہونے کا خدشہ تھا، جس کے لیے ”سندھ وہیت گروورز سپورٹ پروگرام“ کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو 1500 روپے فی ایکڑ امداد دی جا رہی ہے۔ بے نظیر ہاری کارڈ کے ذریعے 3.07 ارب روپے کی یہ رقم براہِ راست تصدیق شدہ کسانوں تک پہنچائی جا رہی ہے۔
ہم اکثر صوبائی حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں لیکن جب عالمی مہنگائی کے دور میں ایسا جامع، ڈیجیٹل اور ہمدردانہ ریلیف پیکج پیش کیا جائے تو اس کی تعریف لازم ہے۔ رجسٹریشن دفاتر کے اوقاتِ کار 15 اپریل تک بڑھانا اس عوامی رسائی کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومتِ سندھ کی یہ حکمتِ عملی جس میں کابینہ کی ذاتی قربانی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹارگٹڈ سبسڈی شامل ہے بحرانی گورننس کے لیے ایک ”ماسٹر کلاس“ ہے۔ ریاست ایک تماشائی کے بجائے ڈھال کا کردار ادا کر رہی ہے جو دیگر صوبوں کے لیے قابل تقلید ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026