کاروبار اور معیشت

پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس، ٹرانسپورٹ کرایوں اور سپلائی چین کی صورتحال کا جائزہ

  • حکومتی سبسڈی کے باعث ٹرانسپورٹ لاگت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، بریفنگ
شائع اپ ڈیٹ

مہنگائی کے رجحانات پر نظر رکھنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی نے ہفتے کے روز ایک اعلیٰ سطح کے آن لائن اجلاس میں ضروری اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ کرایوں اور سپلائی چین کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کی۔

اجلاس میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومتی سبسڈی کے باعث ٹرانسپورٹ لاگت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مختلف شہروں میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں 20 سے 30 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم کراچی میں کرایوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے سندھ حکومت کو فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت کی۔

ہفتہ وار قیمتوں کے اعداد و شمار کے مطابق ضروری اشیا میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا، جہاں آٹھ اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 28 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ لہسن، کیلا، چکن اور آٹے کی قیمتوں میں بالترتیب 3.78 فیصد، 3.39 فیصد، 1.05 فیصد اور 0.73 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ڈیزل، پیٹرول، ٹماٹر، ایل پی جی اور آلو کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حساس قیمت اشاریہ مجموعی طور پر مستحکم رہا اور ہفتہ وار بنیاد پر 1.93 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں مستحکم رہیں جبکہ عالمی رجحان کے باوجود کھاد کی مقامی قیمتوں کو قابو میں رکھا گیا۔

اجلاس میں کراچی سمیت مختلف شہروں میں ہول سیل اور ریٹیل قیمتوں کے درمیان بڑے فرق پر بھی تشویش ظاہر کی گئی، جہاں ٹماٹر میں 142 فیصد اور آلو میں 117 فیصد تک فرق دیکھا گیا۔

وفاقی وزیر نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹ کے درمیان فرق کم کرنے کے لیے بہتر رابطہ کاری یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مہنگائی کے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی، کھاد کی بلا تعطل فراہمی اور آئندہ بوائی کے سیزن سے قبل دستیابی یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔

اجلاس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کے تحت حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے اور ضروری اشیاء کی غیر معمولی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ حد تک استحکام حاصل ہوا ہے، تاہم قیمتوں کو مکمل طور پر مستحکم کرنے کے لیے مسلسل اور مربوط کوششیں اب بھی ضروری ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026