دنیا

ایران کا یورینیم افزودگی کے پروگرام پر پابندیاں لگانے سے انکار، نیوکلیئر چیف

  • یہ ریمارکس ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رواں ہفتے کے آخر میں پاکستانی ثالثی کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہونے والے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

ایران کی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے ملک میں یورینیم کی افزودگی پر کسی بھی قسم کی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات کبھی پورے نہیں ہوں گے۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق محمد اسلامی کا کہنا تھا کہ ایران کے افزودگی کے پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے ہمارے دشمنوں کے دعوے اور مطالبات محض خواہشات ہیں جو دفن ہو جائیں گی۔

ان کے یہ ریمارکس ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رواں ہفتے کے آخر میں پاکستانی ثالثی کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہونے والے ہیں۔

محمد اسلامی نے مزید کہا کہ اس وحشیانہ جنگ سمیت ہمارے دشمنوں کی تمام سازشیں اور اقدامات بے سود ثابت ہوئے ہیں۔ اب وہ مذاکرات کے ذریعے کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

یورینیم کی افزودگی کا معاملہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ایران اور مغرب کے تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی تہران پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ ایران کا ہمیشہ سے یہ اصرار رہا ہے کہ اس کا پروگرام صرف سویلین اور پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بعد ایران کی جانب سے یورینیم کی کوئی افزودگی نہیں ہوگی۔ موجودہ جنگ سے پہلے انہوں نے دلیل دی تھی کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے، تاہم اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی تھی۔

28 فروری کو ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے حملے جس سے حالیہ تنازع شروع ہوا، اس وقت ہوئے جب واشنگٹن اور تہران مذاکرات میں مصروف تھے جن میں ایران کا ایٹمی پروگرام بھی شامل تھا۔ گزشتہ سال جون کی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے یورینیم افزودہ کرنے کی اس کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔

اس کے باوجود بمباری کے بعد کئی سو کلو گرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مواد کسی بمبار مقام کے ملبے تلے دبا ہوا ہے۔ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں تجویز دی تھی کہ ایران اور امریکہ گہرائی میں دبے ہوئے تمام جوہری مواد کو نکالنے اور تلف کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق گزشتہ سال کی جنگ سے پہلے ایران 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا تھا، جو کہ 2015 کے اب ختم ہو چکے جوہری معاہدے کی 3.67 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ اور بم بنانے کے لیے درکار 90 فیصد کے قریب ہے۔