کاروبار اور معیشت

آڈیٹر جنرل کی پاور ڈویژن کو پیپکو ری اسٹرکچرنگ کا جائزہ لینے کی ہدایت

  • واپڈا کی تقسیم کے اثرات سے متعلق حکومت نے پاور سیکٹر کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے ایک ایکشن پلان منظور کیا تھا
شائع April 7, 2026 اپ ڈیٹ April 7, 2026 10:57am

پاور ڈویژن کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے وزارت توانائی (پاور ڈویژن) پر زور دیا ہے کہ پیپکو کی قیادت میں ہونے والے ری اسٹرکچرنگ فریم ورک کا جامع جائزہ لیا جائے تاکہ عملدرآمد میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے اور آئندہ کے لیے واضح حکمت عملی طے کی جا سکے۔

آڈٹ (پاور) رپورٹ کے مطابق، واپڈا کی تقسیم کے اثرات سے متعلق حکومت نے پاور سیکٹر کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے ایک ایکشن پلان منظور کیا تھا، جسے کابینہ اور اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کی منظوری حاصل تھی۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی پیپکو کو ایک مکمل سرکاری ملکیتی کارپوریٹ ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا جس کا کردار محدود اور وقت کے ساتھ ختم ہونا تھا۔

پیپکو کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ واپڈا کے پاور ونگ کو بارہ کارپوریٹ اداروں میں تقسیم کرے، مؤثر کارپوریٹ گورننس قائم کرے، مارکیٹ کی بنیاد پر پیشہ ورانہ انتظامیہ اور خودمختار بورڈز تشکیل دے، کارکردگی بہتر بنائے اور ان اداروں کو نجکاری کے لیے تیار کرے، جبکہ یہ عمل تقریباً دو سال میں مکمل ہونا تھا۔ اس کے بعد پیپکو کو خود ختم کر دیا جانا تھا۔

ایکشن پلان میں یہ بھی تصور کیا گیا تھا کہ پیپکو اصلاحات کی مرکزی قوت کے طور پر کام کرے گا اور پالیسی سطح پر رکاوٹیں دور کرے گا تاکہ شعبہ حکومتی کنٹرول سے نکل کر تجارتی بنیادوں پر چلنے والے اور مالی طور پر مستحکم اداروں میں تبدیل ہو سکے۔

تاہم آڈٹ میں کہا گیا ہے کہ پیپکو اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اگرچہ واپڈا کے پاور ونگ کو باضابطہ طور پر مختلف جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں تقسیم کر دیا گیا، لیکن اس کے بعد کے اہم مراحل جیسے عملی تنظیم نو، مالی خود کفالت، بہتر گورننس اور نجکاری کی تیاری مؤثر طور پر مکمل نہیں ہو سکی۔

طے شدہ دو سال کے بجائے پیپکو طویل عرصے تک کام کرتا رہا لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا۔

زیادہ تر ڈسٹری بیوشن کمپنیاں(ڈسکوز) اب بھی حکومتی کنٹرول میں ہیں اور مالی کمزوری، مسلسل نقصانات اور سبسڈیز اور سرکاری مدد پر انحصار کا شکار ہیں۔

آڈٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پیپکو پیشہ ورانہ اور خودمختار بورڈز قائم کرنے اور اداروں میں مارکیٹ بیسڈ مینجمنٹ متعارف کرانے میں بھی ناکام رہا، جس کے باعث یہ کمپنیاں اب بھی مرکزی حکومتی کنٹرول کے تحت کام کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے پاور سیکٹر اصلاحات کے عمل کو غیر مکمل رکھا ہے، جس کے نتیجے میں حکومتی مداخلت جاری ہے، مالی حالات مزید خراب ہوئے ہیں، گردشی قرضہ بڑھا ہے اور سرکاری ضمانتوں اور سبسڈیز پر انحصار برقرار ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026