پاکستان

آئی ایم ایف نے ایم ای ایف پی کا مسودہ شیئر کردیا، اسٹاف لیول معاہدے پر مذاکرات تیز

  • حکومت کے متعدد عہدیداروں کی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس پیشرفت کی تصدیق
شائع March 27, 2026 اپ ڈیٹ March 27, 2026 10:49am

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت (ایم ای ایف پی) کا مسودہ پاکستان کے ساتھ شیئر کردیا ہے جبکہ دونوں فریقین کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے پر ورچوئل (آن لائن) بات چیت جاری ہے۔

حکومت کے متعدد عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس پیشرفت کی تصدیق کی ہے۔ بزنس ریکارڈر نے اس حوالے سے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ٹیکسٹ میسج کے ذریعے تصدیق چاہی تاہم اس رپورٹ کے فائل کیے جانے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

حکام کے مطابق ڈرافٹ (مسودہ) کی فراہمی اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) کی حتمی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا اعلان آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔ تاہم، اس کا دارومدار پالیسی اقدامات اور میکرو اکنامک اہداف پر فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پر ہے۔

وزارتِ خزانہ نے اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت کا مسودہ فیڈ بیک کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت تمام متعلقہ وزارتوں، ڈویژنوں اور اداروں کو بھیج دیا ہے۔

اس وقت دستاویز میں درج اعداد و شمار اور وعدوں پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے۔ طریقہ کار کے مطابق اس معاہدے کے بعد ایک لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا جائے گا جس پر وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک دستخط کریں گے۔

ایم ای ایف پی کے مسودے میں کلیدی اداروں کے لیے کارکردگی کے مجوزہ اہداف شامل کیے گئے ہیں جن میں وزارتِ خزانہ، توانائی اور پٹرولیم کی وزارتیں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر ریگولیٹری اتھارٹیز شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسٹاف لیول معاہدے کی کامیابی 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے اجرا کی راہ ہموار کرے گی جو کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ آئیوا پیٹرووا کی سربراہی میں آئی ایم ایف کی ٹیم نے 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک کراچی، اسلام آباد اور ورچوئل ذرائع سے ای ایف ایف کے تیسرے جائزے اورآر ایس ایف کے دوسرے جائزے پر مذاکرات کیے۔

تاہم مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم اور پاکستانی حکام ان بات چیت کو جاری رکھیں گے تاکہ آنے والے دنوں میں انہیں کسی حتمی نتیجے (معاہدے) تک پہنچایا جا سکے۔