دنیا

چین نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی مخالفت کردی

  • ایران کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ان کے آئین کے مطابق کی گئی ہے، چینی وزارت خارجہ
شائع اپ ڈیٹ

چین نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کرنا ایران کا اندرونی معاملہ ہے اور کسی بھی ملک کو انہیں نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

پیر کو چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ان کے آئین کے مطابق کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کسی بھی بہانے سے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ علی خامنہ ای ایک ہفتہ قبل امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر ابتدائی فضائی حملوں کے دوران شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد ایران نے ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا۔

ادھر حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کی طرف میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے تھے۔

علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے اور عالمی برادری اس تنازع کے پھیلنے کے خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔