ایران امریکا جنگ مشرق وسطیٰ میں پھیلنے لگی، مزید تیل بردار جہاز حملوں کی زد میں
- کویت کے ساحل کے قریب لنگر انداز ایک ٹینکر کے بائیں حصے میں زور دار دھماکے کے بعد اس میں پانی داخل ہونے لگا
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے شدت اختیار کرنے کے ساتھ خلیجی پانیوں میں جمعرات کو مزید تیل بردار جہاز حملوں کا نشانہ بن گئے جبکہ ایرانی ڈرون آذربائیجان کی فضائی حدود میں داخل ہو گئے، جس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ بحران خطے کے مزید تیل پیدا کرنے والے ممالک تک پھیل سکتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بہاماس کے پرچم تلے چلنے والے ایک خام تیل بردار ٹینکر کو عراق کی بندرگاہ خور الزبیر کے قریب لنگر انداز ہونے کے دوران ایرانی ریموٹ کنٹرول بارودی کشتی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران کویت کے ساحل کے قریب لنگر انداز ایک اور ٹینکر کے بائیں حصے میں زور دار دھماکے کے بعد اس میں پانی داخل ہونے لگا اور تیل سمندر میں بہنے لگا۔
ہفتے کے روز امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کم از کم 9 جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ ایران نے جمعرات کی صبح اسرائیل پر میزائلوں کی نئی بارش کی جبکہ آذربائیجان میں بھی ڈرون حملوں کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوئے۔
ادھر بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق تقریباً 200 جہاز خلیج کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساحلوں کے قریب کھلے سمندر میں لنگر انداز ہیں جبکہ سینکڑوں جہاز آبنائے ہرمز کے باہر بندرگاہوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ یہ گزرگاہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور ایل این جی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاز رانی بحال کرنے کے لیے امریکی بحریہ کی سکیورٹی اور انشورنس فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ادھر عراق کے رمائلہ آئل فیلڈ میں دو نامعلوم ڈرون گرنے کے بعد برطانوی کمپنی بی پی نے اپنے غیر ملکی عملے کو وہاں سے نکال لیا ہے۔
دوسری جانب جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے اور برینٹ خام تیل تقریباً 3 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 4 فیصد مہنگا ہو گیا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک دونوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔