دنیا

ایران نے خامنہ ای کی سرکاری سطح پر تدفین ملتوی کردی، سرکاری ٹی وی

  • نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، سرکاری میڈیا
شائع اپ ڈیٹ

ایران نے اعلان کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری سطح پر جنازہ و تدفین، جو بدھ کی شام تہران میں کئے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، ”غیر معمولی عوامی ہجوم کے خدشے“ کے سبب موخر کر دی گئی ہے، یہ اطلاع ایرانی ریاستی ٹی وی نے دی ہے۔

ایرانی ٹی وی کے مطابق ”شہید امام کے لیے الوداعی تقریب موخر کر دی گئی ہے۔ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔“

بدھ کی صبح حکام نے بتایا تھا کہ تہران میں اسی شام ایک تعزیتی تقریب منعقد کی جائے گی، اس سے پہلے کہ خامنہ ای کا جسد خاکی ان کے آبائی شہر مشہد میں دفنایا جائے۔ خامنہ ای 86 سال کی عمر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔

تہران پر ہفتے کے روز سے میزائل حملے جاری ہیں، جن میں فوجی اور حکومتی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ایرانی حکام نے جنازے کا مؤخر کئے جانے کا تعلق سیکورٹی صورتحال سے جوڑنے کو مسترد کیا ہے۔

تہران کی اسلامی ترقیاتی رابطہ کونسل کے سربراہ محسن محمودی، جو اس تقریب کے منتظمین میں شامل ہیں، نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ جنازہ مؤخر کرنے کی ایک بڑی وجہ لاکھوں افراد کی متوقع شرکت تھی اور اتنے بڑے ہجوم کے لیے مناسب انتظامات اور انفرااسٹرکچر فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔