وزیراعظم کی ڈی ایف سی کو توانائی اور آئی ٹی شعبوں میں مالی معاونت بڑھانے کی پیشکش
- شہباز شریف سے ڈی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بینجمن بلیک کی واشنگٹن میں ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے تیزی سے بہتر ہوتے ہوئے مجموعی معاشی اشاریوں، اسٹرکچرل اصلاحات کو مزید گہرا کرنے کے حکومتی عزم اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ماحول کو اجاگر کرتے ہوئے امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کو توانائی، معدنیات، زراعت اور آئی ٹی شعبوں میں منصوبوں کے لیے اپنی فنانسنگ (مالی معاونت) بڑھانے کی دعوت دی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف سے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بینجمن بلیک نے واشنگٹن میں ملاقات کی، ان کے ساتھ ڈی ایف سی کے سرمایہ کاری کے سربراہ کونر کولمین اور ایجنسی کی سینئر قیادت بھی موجود تھی۔
وزیر اعظم نے پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی شراکت داری کے فروغ اور دونوں ممالک کے نجی اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کو متحرک کرنے میں ڈی ایف سی کے کلیدی کردار کی تعریف کی جو کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے والے میکرو اکنامک بنیادی اصولوں، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ماحول کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے ڈی ایف سی کو دعوت دی کہ وہ توانائی، کان کنی و معدنیات، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں منصوبوں کے لیے اپنی فنانسنگ میں اضافہ کرے۔
انہوں نے ڈی ایف سی کے ایک بلین ڈالر سے زیادہ کے پورٹ فولیو کو سراہا اور دونوں ممالک کی اقتصادی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی پر روشنی ڈالی جو کاروباری تعاون (بی ٹو بی ) کے فروغ کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند مواقع ہیں۔
وزیراعظم نے ڈی ایف سی کو اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آئندہ معدنیات کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ۔
بینجمن بلیک نے وزیراعظم کو ڈی ایف سی کے اسٹرٹیجک اقدامات، ترجیحات اور پاکستان میں متوقع پراجیکٹس کے بارے میں آگاہ کیا اور پاکستان میں ڈی ایف سی کی سرمایہ کاری میں اضافے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈی ایف سی شراکت دار ممالک میں اقتصادی ترقی کی حمایت کیلئے تیار ہے۔
وزیر اعظم نے بنجمن بلیک کو پاکستان میں مشترکہ دلچسپی کے مختلف شعبوں میں باہمی طور پر مفید سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔