ایران میں احتجاجی لہر دوبارہ بیدار کرنے کے لیے ٹرمپ کا فضائی حملوں پر غور، ذرائع کا دعویٰ
- ٹرمپ کے مشیروں کے زیرِ غور آپشنز میں بڑا حملہ بھی شامل ہے جس کا مقصد دیرپا اثرات مرتب کرنا ہے، امریکی ذرائع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو تقویت دینے کے لیے ایرانی سیکورٹی فورسز اور قیادت پر محدود فضائی حملوں سمیت مختلف فوجی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان کا مقصد حالیہ کریک ڈاؤن سے دب جانے والے مظاہرین کو یہ حوصلہ دینا ہے کہ وہ حکومتی عمارتوں پر قبضہ کر سکیں۔
ٹرمپ کے مشیروں کے زیرِ غور منصوبوں میں بیلسٹک میزائل تنصیبات یا جوہری پروگرام پر بڑے حملے بھی شامل ہیں، تاکہ دیرپا اثرات مرتب کیے جا سکیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے (آرمادہ) کی حالیہ آمد نے ٹرمپ کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر دیا ہے، تاہم عرب اور مغربی سفارت کاروں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ایسے حملے عوامی تحریک کو ابھارنے کے بجائے مزید کمزور کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے کسی بھی تصادم کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ وہ باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر کسی بھی حملے کا بھرپور دفاع کریں گے۔واشنگٹن فی الحال تہران کے جوہری پروگرام اور میزائلوں پر سخت پابندیوں کا خواہاں ہے۔