پہلی ششماہی، پاور سیکٹر کا گردشی قرض میں اضافہ 75 ارب روپے تک محدود
- یہ کمی وفاقی حکومت کی جانب سے منظور کردہ 200 ارب روپے کی سبسڈی کے اجرا کے بعد ممکن ہوئی
ملک کے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ مالی سال 2025–26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران کم ہو کر 75 ارب روپے کے اضافے تک محدود رہا، جس کے بعد مجموعی حجم گھٹ کر 1.689 کھرب روپے ہو گیا۔ یہ کمی وفاقی حکومت کی جانب سے منظور کردہ 200 ارب روپے کی سبسڈی کے اجرا کے بعد ممکن ہوئی۔
اس 200 ارب روپے میں سے 105 ارب روپے وزارت خزانہ کی جانب سے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے طور پر پاور ڈویژن کو فراہم کیے گئے، جبکہ باقی 95 ارب روپے پاور ڈویژن نے اپنے بجٹ ہیڈ کے تحت ڈسکوز میں حکومتی ایکویٹی سرمایہ کاری کی مد میں جاری کیے۔
گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں گردشی قرضے کا حجم 2.384 کھرب روپے تھا جبکہ اس وقت معمولی کمی 9 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ پاور ڈویژن نے مالی سال 2025–26 کی پہلی سہ ماہی کے لیے گردشی قرضہ 1.766 کھرب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم اصل حجم 1.693 کھرب روپے رہا۔ دوسری سہ ماہی کے لیے ہدف 1.890 کھرب روپے تھا، لیکن اصل حجم کم ہو کر 1.689 کھرب روپے رہا، جس میں 75 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو واجبات کم ہو کر 903 ارب روپے رہ گئے، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.615 کھرب روپے تھے۔ جینکوز کے ایندھن فراہم کرنے والوں کو واجبات قدرے بڑھ کر 91 ارب روپے ہو گئے، جو گزشتہ سال 86 ارب روپے تھے۔ پاور ہولڈنگ لمیٹڈ میں جولائی تا دسمبر 2025–26 کے دوران کوئی رقم منتقل نہیں کی گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 683 ارب روپے موجود تھے۔
بجٹ میں رکھی گئی مگر جاری نہ کی جانے والی سبسڈی منفی 42 ارب روپے رہی، جبکہ غیر کلیم شدہ سبسڈی صفر رپورٹ کی گئی۔ سودی اخراجات نمایاں طور پر کم ہو کر 10 ارب روپے رہ گئے، جو گزشتہ سال 56 ارب روپے تھے، تاہم زیر التوا سود 11 ارب روپے تک بڑھ گیا۔
کے الیکٹرک کی عدم ادائیگی 115 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 12 ارب روپے تھی۔ مجموعی وصولیاں 329 ارب روپے رہیں جن میں 136 ارب اصل رقم اور 193 ارب مارک اپ شامل ہیں۔
پاور ڈویژن کے مطابق ڈسکوز کے نقصانات کم ہو کر 101 ارب روپے رہ گئیں جبکہ انڈر ریکوری بھی کم ہو کر 9 ارب روپے رہ گئی۔ دیگر ایڈجسٹمنٹس 95 ارب روپے رہیں۔ مجموعی طور پر گردشی قرضے کے بہاؤ میں 299 ارب روپے اضافہ ہوا، لیکن 224 ارب روپے کی ادائیگیوں کے بعد خالص اضافہ 75 ارب روپے تک محدود رہا۔
پاور ڈویژن نے تیسرے کوارٹر میں گردشی قرضہ 1.802 کھرب روپے اور مالی سال کے اختتام تک 1.614 کھرب روپے تک کم ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026