اداریہ

ٹیکس نظام اور ریاست کا رویہ

شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے ٹیکس نظام کو ایک بار پھر اصلاحات کی دہلیز پر کھڑا دکھایا جا رہا ہے۔ ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے بزنس کمیونٹی کو بجٹ 27–2026 کے لیے تجاویز پیش کرنے کی دعوت کو ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے: یعنی قلیل مدتی ریونیو دباؤ سے نکل کر پالیسی کے تسلسل، معاشی قدر اور اسٹیک ہولڈرز کی منظم شمولیت کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔

اداروں کی جانب سے دیا جانے والا یہ اشارہ دانستہ (سوچا سمجھا) ہے۔ ٹیکس پالیسی کی تشکیل کو باقاعدہ طور پر ٹیکس انتظامیہ سے الگ کر کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے وزارتِ خزانہ میں منتقل کردیا گیا ہے۔ نظریاتی طور پر یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔

اس دعوے (اصلاحات کے دعوے) کو جو چیز کمزور کرتی ہے وہ اصلاحات کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں، بلکہ خود ریاست کا اپنا طرزِ عمل ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب مشاورت (کنسلٹیشن) پر زور دیا جارہا ہے، حکومت پٹرولیم کی تلاش اور پیداوار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ ایک تنازع میں الجھی ہوئی ہے۔ یہ تنازع سپر ٹیکس کے نفاذ پر ہے جو پٹرولیم رعایت کے معاہدوں میں طے شدہ مالیاتی حدود سے تجاوز کرگیا ہے۔ یہ معاہدے کوئی صوابدیدی مراعات نہیں بلکہ یہ قانون کے تحفظ میں کیے گئے وہ قانونی معاہدے ہیں جن کا مقصد اس شعبے میں مالیاتی استحکام فراہم کرنا ہے جو کہ بلند ترین خطرات، طویل مدتی سرمایہ کاری اور کثیر سرمائے کی ضرورت کے لحاظ سے پہچانا جاتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ ان معاہدوں میں طے شدہ حد سے تجاوز کر کے سپر ٹیکس نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود یہ معاملہ تاحال حل طلب ہے اور بین الاقوامی ثالثی کے امکان کا کھلم کھلا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یہ تضاد (تقابل) پاکستان کے مالیاتی نظامِ حکومت میں موجود ایک گہری خلیج کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایک ٹیکس نظام معتبر طریقے سے اس وقت تک قابلِ پیش گوئی، اقدار پر مبنی اور مشاورتی ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے ہی قانونی طور پر پابند معاہدوں کی نفاذ پذیری پر سوال اٹھاتا رہے۔

“پالیسی میں مستقل مزاجی (کنسسٹینسی) محض نیت کا معاملہ نہیں ہے۔ اس کا اصل اظہار تب ہوتا ہے جب قوانین پر اس وقت بھی سختی سے عمل کیا جائے جب وہ (حکومت کے لیے) زحمت یا مشکل کا باعث بن رہے ہوں۔

سپر ٹیکس کا معاملہ کوئی الگ تھلگ تنازع نہیں ہے۔ یہ مالیاتی نظام کے اندر ایک دہرائے جانے والے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں ٹیکسیشن کو ’معاشی ڈھانچے‘ کے بجائے محض ’ریونیو نچوڑنے کا ایک اوزار‘ سمجھا جاتا ہے۔ مشکل حالات کے ادوار کو عام طور پر ایسے استثنائی لمحات بنا کر پیش کیا جاتا ہے جن کی آڑ میں طے شدہ وعدوں سے انحراف کو جائز قرار دے دیا جاتا ہے۔ عارضی طور پر لگائے گئے محصولات نیم مستقل بن جاتے ہیں، ’ہنگامی منطق‘ کو معمول بنا لیا جاتا ہے اور قانونی یقینیت کو شرائط سے مشروط کر دیا جاتا ہے۔

یہ (حکومت کی) جبلت، ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے موجودہ استعمال کی جانے والی زبان کے ساتھ میل نہیں کھاتی۔ یہ دعوے کہ ٹیکسیشن کو قلیل مدتی ہنگامی ضرورت کے بجائے معاشی قدر کے تحت چلایا جائے گا، ان دعووں کو (حکومت کی) اس آمادگی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے جس میں محض اضافی ریونیو کے حصول کے لیے معاہدے میں طے شدہ ٹیکس کی حد کو پامال کر دیا جاتا ہے۔

عالمی ثالثی کے خطرات، ساکھ کو پہنچنے والے نقصان اور مستقبل میں فنانسنگ (قرضوں) کی بلند لاگت کو محض ’خیالی خدشات‘ سمجھا جاتا ہے، بجائے اس کے کہ انہیں طویل مدتی نتائج کے حامل ’حقیقی معاشی نقصانات‘ کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

اس کے اثرات محض تیل اور گیس کے شعبے تک محدود نہیں ہیں۔ اگر قانونی تحفظ یافتہ مالیاتی شرائط کو بھی ماضی کی تاریخ سے دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، تو تمام شعبوں کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ اشارہ بالکل واضح ہے کہ آج کا ڈھانچہ (فریم ورک) کل کی کسی بھی تبدیلی کے خلاف کوئی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔

مشاورت تو ہو سکتی ہے لیکن اس کے پائیدار ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ ایسے ماحول میں (حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان) رابطہ تعمیری ہونے کے بجائے محض لین دین تک محدود ہو جاتا ہے اور تجاویز نظام کی اصلاح میں حصہ ڈالنے کے بجائے صرف دفاعی لابنگ کی کوششیں بن کر رہ جاتی ہیں۔

قومی ترجیحات کا حوالہ اس تناؤ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ برآمدات میں مسابقت، صنعتی ترقی، ڈیجیٹل تبدیلی اور توانائی کی حفاظت ان سب کا دارومدار طویل مدتی سرمایہ کاری اور معاہدوں پر اعتماد پر ہے۔ ان مقاصد کو ایسے ٹیکس نظام کے ذریعے آگے نہیں بڑھایا جا سکتا جو مختلف تہوں والے ودہولڈنگ ٹیکسز، عارضی سرچارجز، اور پہلے سے طے شدہ شرائط کی ماضی سے اثر انداز ہونے والی نئی تشریحات پر مبنی ہو۔ ترقی صرف مشاورت سے حاصل نہیں ہوتی، یہ ساکھ سے جنم لیتی ہے۔

ٹیکس پالیسی کی تشکیل کو ٹیکس انتظامیہ سے ادارہ جاتی طور پر الگ کرنا ایک طویل عرصے سے واجب تھا۔

مستحکم اور پختہ نظاموں میں، یہ علیحدگی اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ پالیسی کو نفاذ کی آسانی کے بجائے معاشی ہم آہنگی کے اصولوں پر مرتب کیا جائے لیکن یہ علیحدگی بذاتِ خود اصلاحات کی ضمانت نہیں ہے۔ اس کی اصل قدر اس بات پر منحصر ہے کہ کیا نیا پالیسی مرکز (وزارتِ خزانہ) ریاست کی اپنی جبلتوں پر نظم و ضبط نافذ کرسکتا ہے، ریونیو کے قلیل مدتی دباؤ کا مقابلہ کر سکتا ہے اور پالیسی کے عدم استحکام سے ہونے والے مکمل معاشی نقصان کا ادراک کرسکتا ہے۔

یہ امتحان (ٹیسٹ) پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ سپر ٹیکس کا تنازع ایک ایسی واضح اور قابلِ مشاہدہ مثال ہے جہاں قانونی وضاحت، معاشی منطق اور طویل مدتی مفادات سب ایک ہی سمت میں ہیں۔ حکومت اسے کیسے حل کرتی ہے، یہ بات اس سے کہیں زیادہ اہمیت رکھے گی کہ مشاورتی نوٹس کے جواب میں کتنی تجاویز جمع کرائی گئی ہیں۔

پاکستان کے ٹیکس نظام کا مسئلہ خیالات یا آئیڈیاز کی کمی نہیں بلکہ قوانین کی پاسداری (کمٹمنٹ) کی کمی ہے۔ جب تک مستقل طرزِ عمل کے ذریعے پالیسی کی ساکھ بحال نہیں ہوتی، تب تک مشاورت محض ایک تسلی دینے کی مشق رہے گی نہ کہ حقیقی اصلاح۔ یہ فرق محض طریقہ کار کا نہیں بلکہ بنیادی نوعیت کا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026