پاکستان

قرض کے بدلے طیارے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جے ایف-17 پر مذاکرات

  • مجموعی سودے کی مالیت 4 ارب ڈالر، 2 ارب ڈالر آلات اور ساز و سامان پر خرچ کیے جائیں گے
شائع اپ ڈیٹ

دو پاکستانی ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف-17 فائٹر جیٹ ڈیل میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال دستخط کیے گئے باہمی دفاعی معاہدے کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے جو ان کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ایک ایسے وقت میں اپنے دفاعی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں جب پاکستان شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکی کمٹمنٹ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو نیا رخ دے رہا ہے۔

باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط دوحہ میں حماس کے ٹھکانوں پر اسرائیل کے ان حملوں کے بعد کیے گئے جن کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ وہ حماس کے اہداف تھے، اس حملے نے پورے خلیجی خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ یہ مذاکرات فی الوقت صرف JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہیں جو کہ پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ اور پاکستان میں تیار ہونے والا جنگی طیارہ ہے جبکہ دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرِ بحث دیگر اختیارات میں یہ طیارے اولین اور بنیادی انتخاب کے طور پر شامل ہیں۔

پہلے ذرائع نے بتایا کہ اس مجموعی سودے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہے جس میں قرض کی منتقلی کے علاوہ مزید 2 ارب ڈالر آلات اور ساز و سامان پر خرچ کیے جائیں گے۔

معاملے کی معلومات رکھنے والے عسکری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی ہے، کیونکہ وہ اس ڈیل (سودے) کے بارے میں باضابطہ طور پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

سعودی نیوز 50 نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ پاکستان کے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سعودی عرب میں موجود تھے جہاں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون سمیت دیگر امور پر دو طرفہ مذاکرات کیے۔

میدانِ جنگ میں آزمودہ

ریٹائرڈ ایئر مارشل اور دفاعی تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان اس وقت چھ ممالک کے ساتھ JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں، الیکٹرانک سسٹمز اور ان طیاروں کے لیے تیار کردہ اسلحہ سسٹمز سمیت دیگر فوجی ساز و سامان کی فراہمی کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے، تاہم مذاکرات کی کسی بھی تفصیل کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔

انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جے ایف-17 کی مارکیٹ ویلیو (مانگ) میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ’یہ آزمودہ ہے اور اسے جنگی میدان میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ طیارہ لاگت کے لحاظ سے بھی انتہائی موزوں ہے۔ پاکستان نے کہا کہ اس طیارے کو گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازع کے دوران استعمال کیا گیا تھا، جو کہ دہائیوں میں ان پڑوسی ممالک کے درمیان ہونے والی شدید ترین لڑائی تھی۔

پاکستان کی فوج اور وزارتِ خزانہ و دفاع نے فوری طور پر تبصرے کے لیے کوئی جواب نہیں دیا۔

سعودی عرب کے حکومتی میڈیا آفس نے بھی کوئی ردعمل نہیں دیا۔

ستمبر میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت دونوں فریقین اس بات کے پابند ہیں کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف ہونے والی جارحیت کو دونوں ممالک پر حملہ تصور کریں گے۔ یہ معاہدہ کئی دہائیوں پر محیط سکیورٹی شراکت داری کو نمایاں طور پر مزید گہرا اور مضبوط بناتا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو عسکری مدد فراہم کرتا رہا ہے جس میں تربیت اور مشاورتی تقرریاں شامل ہیں جبکہ سعودی عرب نے بار بار اقتصادی دباؤ کے اوقات میں پاکستان کی مالی مدد کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

2018 میں ریاض نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا جس میں مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالر کے ذخائر اور ادھار ادائیگی پر 3 ارب ڈالر مالیت کے تیل کی فراہمی شامل تھی۔

سعودی عرب نے اس کے بعد سے کئی بار (مرکزی بینک میں رکھے گئے) ذخائر کی واپسی کی مدت میں توسیع کی ہے جس میں گزشتہ سال مؤخر کی گئی 1.2 ارب ڈالر کی رقم بھی شامل ہے۔ اس تعاون نے اسلام آباد کو ادائیگیوں کے توازن کے دائمی دباؤ کے درمیان اپنے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

دفاعی برآمدات میں وسعت

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دفاعی تعلقات کو مضبوط کیا ہے کیونکہ وہ ہتھیاروں کی برآمدات بڑھانے اور اپنے ملکی دفاعی صنعت کو مالی فوائد میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حکام کے مطابق گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی مشرقی بنیادوں پر قائم ’لیبین نیشنل آرمی‘ کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحے کا سودا کیا ہے۔ یہ ملک کی اب تک کی سب سے بڑی دفاعی برآمدات میں سے ایک ہے، جس میں JF-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی جے ایف-17 جیٹس کی ممکنہ فروخت پر بات چیت کی ہے کیونکہ وہ اپنے ہتھیاروں کی سپلائی کی حدود جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے باہر بڑھا رہا ہے۔

منگل کو پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا کہ اسلحہ سازی کی صنعت (ڈیفنس انڈسٹری) کی کامیابی ملک کے معاشی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے طیارے آزمائے جا چکے ہیں اور ہمیں اتنے زیادہ آرڈرز مل رہے ہیں کہ شاید پاکستان کو چھ ماہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ضرورت نہ رہے۔