کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج میں ایک اور نیا ریکارڈ، ایک لاکھ 85 ہزار پوائنٹس کی تاریخی سطح عبور

  • بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں منگل کے روز 2,600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو بھی ریکارڈ توڑتیزی کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ اس دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس پہلی بار 185,000 پوائنٹس کی حد عبور کر گیا، جس کی وجہ سود کی شرح میں کمی کی توقعات بتائی جاتی ہے۔

زیادہ تر تجارتی سیشن کے دوران بھرپور خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ کاروبار دن کے آغاز میں کے ایس ای 100 انڈیکس عارضی طور پر انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 181,182.07 پوائنٹس تک گر گیا، مگر بعد میں تیز بحالی کے بعد اس میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔

کے ایس ای 100 انڈیکس دن بھر مستحکم رہا اور اپنے انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 185,481.45 پوائنٹس کے قریب بند ہوا، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 185,062.11 پر بند ہوا، جو 2,653.87 پوائنٹس یا 1.45 فیصد کے اضافے کے برابر ہے۔

مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے مثبت رجحان کی وجہ آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی ( ایم پی سی) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کمی کی توقعات قرار دی ہے۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ” مارکیٹ آئندہ ایم پی سی میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہی ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ” لیکویڈیٹی سے تحریک یافتہ خریداری، اثاثہ جات کی منتقلی کے تسلسل اور سرمایہ کاروں کے پرجوش رجحان نے تیزی کو مضبوطی سے قائم رکھا۔“

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے مطابق آج کے سیشن میں کمرشل بینک، سیمنٹ اور ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن سیکٹرز نے سب سے زیادہ حصہ ڈالا، جنہوں نے مشترکہ طور پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2,330 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

یاد رہے کہ پیر کو پی ایس ایکس میں نئے سال کا آغاز شاندار انداز میں ہوا، جہاں مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں بالخصوص میوچل فنڈز کی بھرپور خریداری کے باعث مارکیٹ میں وسیع البنیاد تیزی دیکھنے میں آئی اور انڈیکس نئی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3,373.31 پوائنٹس یا 1.88 فیصد نمایاں اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 182,408.24 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے اپنی ریکارڈ سطح کی جانب پیش قدمی جاری رکھی اور وال اسٹریٹ کی تیزی کو آگے بڑھایا، جہاں تیل کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے شیئرز میں اضافے کے باعث ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

امریکہ کی بڑی تیل کمپنیوں کو ملک کی اس فوجی کارروائی سے تقویت ملی ہے جس میں ہفتے کے آخر میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا گیا۔ راتوں رات خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر فی بیرل اضافے کے بعد اب قیمتوں میں کچھ کمی آئی ہے کیونکہ تاجر وینزویلا سے خام تیل کی سپلائی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہے۔

تاہم مجموعی طور پر ان واقعات کے مارکیٹ کے عمومی رجحان پر محدود اثرات مرتب ہوئے، کیونکہ حصص بازار کی تیزی کا انحصار زیادہ تر مومینٹم پر رہا اور کرنسی مارکیٹ کی توجہ میکرو اکنامک ڈیٹا (معاشی اعدادوشمار) پر مرکوز رہی۔

ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک شیئرز کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جس کی بنیادی وجہ جاپانی اسٹاکس میں تیزی رہی۔ جاپان کا ٹوپکس انڈیکس 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔

ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.7 فیصد بڑھا، مین لینڈ چین کے بلیو چِپ شیئرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آسٹریلیا کا بینچ مارک اسٹاک انڈیکس 1 فیصد اوپر گیا۔ اس کے برعکس جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس پیر کو ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد 0.4 فیصد کمی کے ساتھ نیچے آیا۔

امریکی ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نقد مارکیٹ میں انڈیکس رات گئے 0.6 فیصد بڑھا تھا۔ شیورون کے شیئرز میں 5 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ وینزویلا کو عارضی طور پر امریکی کنٹرول میں لائیں گے اور اگر جنوبی امریکی ملک نے تیل کی صنعت کھولنے اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے امریکی کوششوں سے تعاون نہ کیا تو مزید فوجی کارروائی کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کولمبیا اور میکسیکو کے خلاف بھی فوجی کارروائی کی دھمکی دی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسی ہفتے امریکی تیل کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے، جس میں وینزویلا میں تیل کی پیداوار بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روزامریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ بہتر ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.07 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں تین پیسے کے اضافے کے برابر ہے۔

آل شیئر انڈیکس میں حجم کم ہو کر 1,306.1 ملین رہ گیا، جو پچھلے بند ہونے والے سیشن میں 1,384.3 ملین تھا۔ تاہم، شیئرز کی مجموعی مالیت بہتر ہو کر 85.32 ارب روپے ہو گئی، جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 78.1 ارب روپے تھی۔

کے الیکٹرک سب سے زیادہ حجم والا شیئر رہا جس کا حجم 109.62 ملین شیئرز تھا، اس کے بعد بینک آف پنجاب 79.91 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور پاک انٹرنیشنل بلک 62.34 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر رہے۔

منگل کے روز مجموعی طورپر 485 کمپنیوں کے شیئرز کی تجارت ہوئی، جن میں سے 238 کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ، 218 میں کمی اور 29 کمپنیوں کے شیئرز مستحکم رہے۔