کاروبار اور معیشت

پی آئی اے کی نجکاری سے خزانے کو 55 ارب روپے کا فائدہ ہوگا، مشیر وزیراعظم کی وضاحت

  • کچھ عناصر جان بوجھ کر نجکاری کے حوالے سے بیانیے کو مسخ کررہے ہیں، محمد علی
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے بدھ کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت میں کنسورشیم کی جانب سے جمع کرائی گئی 135 ارب روپے کی بولی سے قومی خزانے کے لیے مجموعی طور پر 55 ارب روپے کی اکنامک ویلیو پیدا ہوگی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اس لین دین کے حوالے سے تنقید اور متضاد بیانیے گردش کر رہے ہیں۔

پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی اور وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے نجکاری کے اس معاہدے کے منطقی جواز اور اس کے ڈھانچے پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ نجکاری کا مقصد یہ ہے کہ نجی شعبہ ان کاروباری اداروں کو چلانے کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے؛ یہ حکومت کا کام نہیں۔ نجی شعبے کی سرمایہ کاری نئے طیارے لے کر آئے گی اور ایئرلائن کی خدمات میں بہتری لائے گی

عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت میں قائم کنسورشیم، جس میں میٹرو وینچرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ اور سٹی اسکولز (پرائیویٹ) لمیٹڈ بھی شامل ہیں، کو مبارکباد دیتے ہوئے محمد علی نے نجکاری کے عمل میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور متعلقہ حکومتی اہلکاروں کے کردار کو سراہا۔

محمد علی نے کہا کہ آرمی چیف نے اس عمل میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت میں قائم کنسورشیم منگل کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص کے حصول کے لیے کامیاب بولی دہندہ کے طور پر ابھرا، اس کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی جمع کرائی، جو حکومت کی ابتدائی کم از کم قیمت (100 ارب روپے) اور اس بنیادی قیمت (115 ارب روپے) سے کہیں زیادہ تھی جس پر نیلامی کا آغاز ہوا تھا۔

محمد علی نے بتایا کہ بولی کے عمل کے بعد پی آئی اے کی مجموعی قیمت 180 ارب روپے بنتی ہے یعنی حکومت کے 25 فیصد حصص کی قیمت 45 ارب روپے ہے۔

اگر خریدار یہ حصہ خرید لیتا ہے تو حکومت کو 45 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ اس طرح حکومت کے لیے پی آئی اے کے اس لین دین کی مجموعی اقتصادی قدر 55 ارب روپے بنتی ہے۔

اس لین دین کی طے شدہ شرائط کے مطابق، بولی کی رقم کا 7.5 فیصد (10.125 ارب روپے) حکومت پاکستان کو پی آئی اے ایچ سی ایل کے ذریعے موصول ہوگا، جبکہ باقی 92.5 فیصد (124.875 ارب روپے) پی آئی اے سی ایل میں نئی ایکویٹی کی شکل میں رائٹس ایشو کے ذریعے دو قسطوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔ پہلی قسط دو تہائی کی پیشگی ادائیگی (83.25 ارب روپے) ہوگی اور دوسری قسط ایک تہائی (41.625 ارب روپے) کی سرمایہ کاری مالیاتی بندش کے 12 ماہ کے اندر کی جائے گی۔

مشیر نے وضاحت کی کہ پی آئی اے کی جائیدادیں اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔

پی آئی اے کے آپریشنل معاملات کی تفصیلات بتاتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ ایئرلائن اس وقت 30 مقامات کے لیے اپنی خدمات فراہم کررہی ہے جبکہ پی آئی اے کے پاس 78 ممالک کے لیے نامزد ایئرلائن کے طور پر حقوق موجود ہیں اور 97 ممالک کے ساتھ اس کے فضائی خدمات کے معاہدے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے لینڈنگ رائٹس ہیں۔

فی الحال ایئر لائن کے پاس 33 طیارے ہیں، جن میں 16 اے-320، 12 بوئنگ 777 اور 5 اے ٹی آر شامل ہیں لیکن صرف 19 طیارے فعال ہیں اور مقامی مارکیٹ میں اس کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے۔

محمد علی نے کہا کہ کچھ عناصر جان بوجھ کر پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بیانیے کو مسخ کررہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پی آئی اے کو 10 ارب روپے میں فروخت کردیا حالانکہ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ حکومت کو 55 ارب روپے کی کل اقتصادی قدر حاصل ہورہی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت 180 ارب روپے کے واجبات منتقل کررہی ہے تاہم کوئی طویل المدتی قرضہ منتقل نہیں کیا جارہا۔

مختلف ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے علی نے کہا کہ ایئر لائن چلانے کے لیے مالی اور انتظامی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔

مشیر نے کہا کہ حکومت نے خریدار کو مراعات فراہم کی ہیں، جن میں جی ایس ٹی کی چھوٹ، ایئر لائن آپریشنز پر نئے ٹیکس، لیوی یا سرچارجز نہ لگانا شامل ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ پی آئی اے کی کارکردگی پچھلے 15 سالوں میں خراب ہوئی ہے۔ 2015 تا 2024 کے عرصے میں پی آئی اے نے 500 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کیا۔

مشیر نے بتایا کہ ایئر لائن صنعت پاکستان کی جی ڈی پی میں صرف 1.6 فیصد کا حصہ ڈالتی ہے جو کہ کم ہے۔ صرف 0.3 فیصد کے معمولی حصے کے ساتھ، ہوابازی کی صنعت پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مددگار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں مکمل سروس نیٹ ورک کیریئر بننے کی صلاحیت اور گنجائش موجود ہے، مزید سرمایہ کاری لائی جا سکتی ہے کیونکہ کوئی طویل المدتی قرضہ نہیں ہے۔

محمد علی نے مزید کہا کہ ہم نے خریدار کو مثبت بیلنس شیٹ فراہم کی ہے، پی آئی اے دوبارہ اپنی شاندار دنوں کی جانب لوٹے گی۔