تیل کی قیمتیں مستحکم ، مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی خدشات اور مندی کے عوامل کا موازنہ
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 7 سینٹ اضافہ ، قیمت 62.14 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
عالمی منڈی میں منگل کو تیل کی قیمتیں معمولی رد و بدل کے ساتھ مستحکم رہیں۔
جہاں امریکا کی جانب سے وینزویلا کا ضبط شدہ خام تیل فروخت کیے جانے کے امکانات کو یوکرین کے روسی جہازوں اور بندرگاہی تنصیبات پر حملوں کے بعد سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے بڑھتے خدشات نے متوازن رکھا۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 7 سینٹ اضافے کے ساتھ 62.14 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 4 سینٹ اضافے سے 58.05 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
پیر کو قیمتوں میں دو فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا، جس میں برینٹ نے گزشتہ دو ماہ کی سب سے بڑی یومیہ بڑھوتری ریکارڈ کی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 14 نومبر کے بعد سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔
آئی جی کے تجزیہ کار ایکسل روڈولف نے کہا کہ پیر کے روز تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے کے بعد شدید اضافی سپلائی مزید تیزی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
ان کے مطابق تیرتے ذخائر 2020 کے بعد بلند ترین سطح پر ہیں، اس لیے تعطیلات کے مختصر ہفتے اور کمزور لین دین کے باعث قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔
پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا حالیہ ہفتوں میں وینزویلا کے ساحل سے ضبط کیے گئے تیل کو یا تو اپنے پاس رکھ سکتا ہے یا فروخت کر سکتا ہے۔ یہ اقدام ان امریکی اقدامات کا حصہ ہے جن میں پابندیوں کے تحت جنوبی امریکی ملک میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تیل بردار جہازوں کی ناکہ بندی بھی شامل ہے۔
بارکلیز نے پیر کی تاریخ کے ایک نوٹ میں کہا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں تیل کی مارکیٹ میں سپلائی وافر رہنے کی توقع ہے، تاہم بینک کے مطابق 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں اضافی سپلائی کم ہو کر صرف سات لاکھ بیرل یومیہ رہ جائے گی اور اگر رکاوٹیں طویل ہوئیں تو مارکیٹ مزید سخت ہو سکتی ہے۔
پیر کی رات روسی افواج نے یوکرین کی بحیرہ اسود کی بندرگاہ اوڈیسا پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں بندرگاہی تنصیبات اور ایک جہاز کو نقصان پہنچا۔ یہ 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اس علاقے پر دوسرا حملہ تھا۔ ادھر یوکرینی ڈرون حملوں سے روس کے کراسنودار ریجن میں دو جہازوں اور دو گھاٹوں کو نقصان پہنچا اور ایک گاؤں میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔
یوکرین روس کی سمندری لاجسٹکس کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، خاص طور پر ان شیڈو فلیٹ آئل ٹینکروں کو جو روس پر عائد پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔