پاکستان

سیلاب سے جی ڈی پی کی شرح نمو میں 0.5 فیصد کمی متوقع، وزیرخزانہ

  • موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک فوری اقتصادی حقیقت ہے، محمد اورنگزیب
شائع اپ ڈیٹ

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے موسمیاتی خطرات سے شدید متاثر ہونے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب ہی جی ڈی پی کی شرح نمو میں آدھا فیصد ( 0.5) کمی کا سبب بنے گا۔

محمد اورنگزیب نے یہ بھی واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک فوری اقتصادی حقیقت ہے اور حکومت پائیدار مالیات کو فروغ دینے، گرین ٹیکسونومی کے نفاذ، اور ماحولیاتی ہم آہنگ انکشاف کے فریم ورک کے نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔

یہ باتیں وزیرِ خزانہ نے فنانس ڈویژن میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (آئی ایف اے سی ) کے صدر ژاں بوکوٹ کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کہیں جس میں ایشین فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (ایس اے ایف اے) کے صدر اشفاق یوسف ٹولا، ایس اے ایف اے کے نائب صدر ہمایوں کبیر، آئی کیپ کے صدر سیف اللہ اور آئی سی ایم اے پی کے صدر غلام مصطفیٰ قاضی بھی شریک تھے۔

ملاقات میں آڈیٹر جنرل پاکستان مقبول احمد گوندل، ایس ای سی پی کے چیئرمین عاکف سعید اور وزارت خزانہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔

وزیرِ خزانہ نے وفد کا خیرمقدم کیا اور اکاؤنٹنگ کے شعبے کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی معیارات کو فروغ دینے، اور مالیاتی رپورٹنگ میں شفافیت و اعتماد بڑھانے میں آئی ایف اے سی کے عالمی کردار کو سراہا۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کا پائیداری ایجنڈا، ماحولیاتی مالیات کے وعدے اور گرین اقتصادی اقدامات آئی ایف اے سی کے صدر کے اٹھائے گئے امور کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔

بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے پاکستان کی شدید موسمیاتی حالات سے نمٹنے کی حساسیت کی نشاندہی کی اور بتایا کہ حالیہ سیلاب ہی جی ڈی پی کی ترقی سے نصف فیصد پوائنٹ کم کرنے کا باعث بننے کی توقع ہے۔

اس تناظر میں انہوں نے گرین فنانس اقدامات، قومی گرین ٹیکسانومی کے نفاذ، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے پائیداری فریم ورک کے اجراء کے حکومتی عزم کو دہرایا۔

انہوں نے ایس ایم ایز کے مالی نظام کو رسمی بنانے اور ان کی انکشاف کی صلاحیت کو بہتر بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا، خاص طور پر صنعتی اور برآمدی شعبوں میں جہاں آگاہی اور صلاحیت کے چیلنجز موجود ہیں اور کہا کہ جدید رپورٹنگ اور دستاویزی طریقوں کی ہموار منتقلی کے لیے مربوط ادارہ جاتی معاونت ناگزیر ہے۔

وزیرِ خزانہ نے پاکستان میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ریگولیٹری اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ عالمی ورچوئل اثاثہ مارکیٹوں میں پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کے پیشِ نظر، حکومت نے پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی اور کرپٹو کونسل تشکیل دی تاکہ لائسنسنگ پر مبنی، کے وائی سی اور اے ایم ایل کے مطابق ریگولیٹری نظام قائم کیا جاسکے جو جدت کو باقاعدہ معیشت میں ضم کرے۔

اس سے قبل جین بوکوٹ نے وزیرِ خزانہ کو آئی ایف اے سی کے مشن کے بارے میں بریف کیا جس کا مقصد اکاؤنٹنگ کے شعبے کی عالمی آواز بننا ہے اور اس کے 143 دائرہ اختیار میں 188 رکن ادارے شامل ہیں۔

انہوں نے پائیداری کے معیارات، آڈٹ معیار، اخلاقیات، اے آئی کے اثرات، چھوٹے و درمیانے پیشہ وران کی صلاحیت سازی اور عوامی شعبے میں اکاؤنٹنگ اصلاحات میں آئی ایف اے سی کی ترجیحات کو اجاگر کیا۔

آڈیٹر جنرل مقبول احمد گوندل نے وفد کو پاکستان کے کیش سے ایکریل بیسڈ IPSAS معیارات کی طرف منتقلی کے بارے میں آگاہ کیا جو نئے ای آر پی سسٹمز اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے کی جارہی ہے تاکہ موجودہ مالی سال میں مکمل الیکٹرانک ادائیگی اور وصولی کو یقینی بنایا جاسکے جس سے عوامی مالی شفافیت اور بین الاقوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

ایس ای سی پی کے چیئرمین عاکف سعید نے شرکاء کو پاکستان کی بین الاقوامی اداروں بشمول آئی او ایس سی او کے ساتھ ریگولیٹری ہم آہنگی کے بارے میں بریف کیا اور انشورنس، پنشنز اور کیپیٹل مارکیٹس میں اصلاحات کو اجاگر کیا۔

اشفاق یوسف ٹولا اور ہمایوں کبیر نے ایس اے ایف اے کی علاقائی تعاون کی کوششیں، جغرافیائی سیاسی چیلنجز، اور حکومتِ پاکستان کی حمایت کو اجاگر کیا۔

آئی سی ایم اے پی کے صدر غلام مصطفیٰ قاضی نے حکومت کو تربیت، صلاحیت سازی، اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے اے آئی کو مالی تعلیم میں شامل کرنے میں ادارے کی حمایت کی تصدیق کی۔ انہوں نے پاکستان کی بہتر ہوتی اقتصادی صورتحال پر اعتماد کا اظہار کیا اور جاری ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔