پاکستان

حکومت نے سلامتی، دفاع اور ساختی اصلاحات کیلئے اہم گرانٹس کی منظوری دیدی

  • دفاعی منصوبوں کیلئے 50 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی
شائع اپ ڈیٹ

وزارت خزانہ میں منگل کو وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی سلامتی، دفاع، غذائی تحفظ اور پیٹرولیم شعبے کی اصلاحات سے متعلق متعدد سمریوں پر غور کیا گیا۔

ای سی سی نے وزارت دفاع کی جانب سے پیش کردہ سمری پر غور کرتے ہوئے دفاعی اداروں کے مختلف منظور شدہ منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دی۔

ای سی سی نے وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی درخواست پر وفاقی سول آرمڈ فورسز کے استعمال شدہ دفاعی آلات کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے 100.3 ملین روپے کی اضافی ٹی ایس جی بھی منظور کی۔

مزید برآں، وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی جانب سے پیش کردہ ایک اور سمری کے تحت سرحدی کنٹرول، داخلی سلامتی اور وفاقی سول آرمڈ فورسز کے ذریعے قانون و نظم کی بحالی کے لیے 841.56 ملین روپے کی اضافی ٹی ایس جی کی منظوری دی گئی۔

ای سی سی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کردہ سمری پر بھی غور کیا جس میں پاسکو کو بند کرنے اور ایک اسپیشل پرپس وہیکل (ایس پی وی) کے قیام کی تجویز تھی۔ کمیٹی نے ایس پی وی کے قیام کی منظوری دی اور ابتدائی ادا شدہ سرمایہ ایک ملین روپے مقرر کیا جبکہ مجاز سرمایہ کو تنظیم کے منظم طور پر ختم کرنے کے لیے ضروریات کے مطابق کم کیا گیا۔

اجلاس میں وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے پیش کردہ سمری پر بھی بات کی گئی، جس میں آف شور آئل اور گیس کی تلاش کے بلاکس کے لیے لائسنس کی مدت میں توسیع اور ورکنگ انٹرسٹ کی تفویض شامل تھی۔ کمیٹی نے غیر ملکی کمپنیوں کی پاکستان کے پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری اور شمولیت کو فروغ دینے کے لیے پیش کردہ تجاویز کی منظوری دی۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیراعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان، اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔