پاکستان میں ڈالر بانڈز کی قدر میں اضافہ جاری رہنے کا امکان، بلومبرگ
- پاکستان کے ڈالر بانڈز نے رواں سال 24.5 فیصد منافع حاصل کیا
بلومبرگ کے مطابق پاکستان میں ڈالر بانڈز کی قدر میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستان کے ڈالر بانڈز، جو خطے میں بہترین کارکردگی دکھانے والے بانڈز میں شامل ہیں مزید مضبوطی کی جانب بڑھنے کا امکان رکھتے ہیں۔ سرمایہ کاروں نے بلومبرگ کو بتایا کہ اس کی وجہ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور حکومت کے عالمی قرضہ مارکیٹس میں دوبارہ داخلے کے منصوبے ہیں، جنہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا ہے۔
قبل ازیں بین الاقوامی میڈیا نے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے حوالے سے بتایا تھا کہ پاکستان آئندہ سال تقریباً پانچ سال کے وقفے کے بعد ڈالر بانڈز کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گولڈمین سیکس ایسٹ مینجمنٹ اور یو بی ایس ایسٹ مینجمنٹ کے مطابق یہ اقدام ملک کے قرضوں میں مزید اضافے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے ڈالر بانڈز نے رواں سال 24.5 فیصد منافع حاصل کیا، جو کہ مساوی کریڈٹ ریٹنگ رکھنے والے دیگر ممالک جیسے مصر اور ارجنٹینا کی کارکردگی سے بہتر ہے۔
سورن مورچ جو کہ ڈانسکے بینک ایسٹ مینجمنٹ کی ابھرتی ہوئی مارکیٹس کے قرض کے سربراہ ہیں نے کہا کہ ان کے بینک نے جس نے دو سال قبل پاکستان کے مالی بحران کے عروج پر ڈالر بانڈز خریدے تھے، اس سال کئی بار اپنی ہولڈنگز میں اضافہ کیا ہے۔ مورچ نے کہا، ہم پرامید ہیں کہ پاکستان اصلاحاتی راہ پر گامزن رہے گا، اپنے ڈالر ذخائر کو مضبوط کرے گا اور مارکیٹ تک رسائی حاصل کر کے اس سے فائدہ اٹھائے گا۔
گزشتہ ماہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ پاکستان 2026 میں اپنے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت یوروبونڈ جاری کر کے بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹس میں دوبارہ داخل ہوگا۔
ستمبر میں پاکستان نے کامیابی کے ساتھ 500 ملین ڈالر کی یورو بانڈ ادا کر دیا، جو 2015 میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے 10 سالہ مدت کے ساتھ جاری کیا گیا تھا اور 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا۔
یو بی ایس ایسٹ مینجمنٹ کی ہیڈ آف فکسڈ انکم، ابھرتی ہوئی مارکیٹس اور ایشیا پیسیفک شمیلا خان نے کہا کہ یہ بہترین کارکردگی اسی وقت برقرار رہے گی جب تک کہ پاکستان آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہے، جس کے لیے ہمیں یقین ہے کہ ان کا عزم مضبوط ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے مارکیٹ تک ممکنہ رسائی بھی ایک مثبت پہلو ہے، کیونکہ اس صورت میں آئندہ دو سے تین سال میں قرض کی دوبارہ فراہمی کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
تاہم بلومبرگ نے خبردار کیا کہ ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان کے ساتھ کشیدگیاں خطرات پیدا کر سکتی ہیں جب کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مالی معاملات پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
تاہم سرمایہ کار اب بھی پر امید ہیں۔