وزیر اعظم شہباز شریف نے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے آٹھ خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں جن میں معروف کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ ان گروپس کا مقصد اقتصادی بحالی کے لیے پالیسی تجاویز تیار کرنا ہے، تاہم یہ تجاویز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت (ایم ای ایف پی) کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے زیرِ غور آئیں گی۔
وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری میں آئندہ ماہ پیش رفت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری ماحول بہتر بنانے، ٹیکس شرحوں اور بجلی کے نرخ کم کرنے کے حوالے سے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات پر مبنی ترقی ہی معیشت کو پائیدار بنیاد فراہم کرسکتی ہے اور آئی ایم ایف پروگرامز پر انحصار ختم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں معیشت میں بہتری کے نمایاں آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں محصولات میں 26 فیصد اضافہ ہوا جبکہ افراطِ زر 23 فیصد سے گھٹ کر 4.5 فیصد تک آ گئی۔ ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.8 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 10.3 فیصد تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ 14 سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ 22 سال کا سب سے بڑا سرپلس ہے، اور اس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام ملا ہے۔
وزیرِ مملکت نے بتایا کہ پالیسی ریٹ میں 22 فیصد سے 11 فیصد تک کمی مہنگائی پر قابو پانے کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کسی منی بجٹ کے بغیر پرائمری بیلنس کا ہدف حاصل کیا گیا۔ فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری مکمل ہوچکی ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) کی نجکاری کا عمل جاری ہے۔
بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں کاروباری برادری سے تین گھنٹے طویل ملاقات کی، جس میں برآمدات بڑھانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے تجاویز لی گئیں۔ ان تجاویز کی روشنی میں مختلف ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں جو انکم ٹیکس، کسٹمز ٹیرف، توانائی، ریلوے، بندرگاہوں، زراعت اور صنعت جیسے شعبوں پر سفارشات تیار کریں گے۔ ان تمام گروپس کی سربراہی نجی شعبے کے ماہرین کو دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ورکنگ گروپس 15 نومبر تک اپنی تجاویز پیش کریں گے، جنہیں وزیرِ اعظم کے سامنے رکھا جائے گا۔ حکومت کا ہدف ہے کہ زراعت کو برآمدات کا ذریعہ بنایا جائے، ٹیکسوں اور توانائی کی لاگت میں کمی لائی جائے اور پائیدار ترقی حاصل کی جائے۔
ریلوے منصوبوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کے دونوں سیکشنز 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے، جبکہ کراچی-روہڑی سیکشن دسمبر 2028 تک مکمل ہو جائے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے اس منصوبے کے لیے دو ارب ڈالر کی فنانسنگ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک میں کان کنی کے آغاز کے ساتھ ہی ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کا کام بھی تیز کیا جائے گا۔
بلال کیانی نے کہا کہ حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ موجودہ معاشی استحکام تمام اداروں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، اور حکومت معیشت کی بحالی کے لیے مربوط پالیسی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025