پاکستان

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رواں ہفتے آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کے اسٹاف لیول معاہدے کیلئے پر امید

  • آئی ایم ایف مشن گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں قائم قرض دہندہ ادارے کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام کے دوسرے جائزے اور 2024 میں طے پانے والی 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے پہلے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ کیے بغیر پاکستان سے روانہ ہوگیا ہے
شائع October 14, 2025 اپ ڈیٹ October 14, 2025 07:55pm

پاکستان اس ہفتے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اپنے قرضہ پروگرام کے جائزے پر ابتدائی معاہدہ طے کرنے کے قریب ہے، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا، جو کہ آئی ایم ایف سے مزید 1.24 ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کا مشن پاکستان سے روانہ ہوگیا تھا بغیر کسی اسٹاف لیول معاہدے ( ایس ایل اے) کے، جو واشنگٹن میں قائم قرض دہندہ ادارے کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام کے دوسرے جائزے اور 2024 میں طے پانے والی 1.4 ارب ڈالر کی لچکدار اور پائیدار سہولت ( ریزیلئینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی) کے پہلے جائزے سے متعلق تھا۔ یہ دونوں پروگرام پاکستان کی معیشت کو شدید مالی بحران کے بعد سہارا دینے کے لیے طے پائے تھے۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ریوٹرز سے گفتگو میں، جو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوئی، کہا کہ “مشن دو ہفتوں تک یہاں موجود رہا۔ ہماری ان کے ساتھ مقداری اور ساختی اہداف ( کوانٹیٹیو اینڈ اسٹرکچرل بینچ مارک ) پر نہایت مثبت بات چیت ہوئی، اور ہم مسلسل فالو اپ رابطے میں ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ “امید ہے کہ اس ہفتے کے دوران ہم اسٹاف لیول معاہدہ ( ایس ایل اے) طے کر لیں گے۔”

آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام کے تحت شامل ممالک کو باقاعدہ جائزہ مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔ ان جائزوں کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی توثیق سے اگلی قسط کی ادائیگی عمل میں آتی ہے۔

ستمبر 2024 میں طے پانے والے آئی ایم ایف پروگرام نے اُس وقت شدید مالی دباؤ کے شکار 370 ارب ڈالر مالیت کے پاکستانی معیشت کو سہارا فراہم کیا، جو تاریخی افراطِ زر، تیزی سے گرتی ہوئی کرنسی اور بڑھتے ہوئے بیرونی خسارے کے باعث گہرے معاشی بحران میں گھر چکی تھی۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے توقع ظاہر کی کہ حکومت رواں سال کے اختتام سے قبل سبز پانڈا بانڈ ( گرین پانڈا بانڈ) جاری کرے گی، جو چینی یوآن میں جاری ہونے والا پاکستان کا پہلا بانڈ ہوگا، جبکہ آئندہ سال بین الاقوامی منڈیوں میں کم از کم ایک ارب ڈالر کے بانڈ اجرا کے ذریعے واپسی کا منصوبہ ہے، اگرچہ اس کی تفصیلات ابھی طے نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ “یورو، ڈالر، سکوک یا اسلامک سکوک، ہم تمام امکانات کھلے رکھے ہوئے ہیں۔”

دوسری جانب، نجکاری کا عمل، جو اقتصادی اصلاحات اور مالیاتی استحکام کے ایجنڈے کے تحت ریاستی اثاثوں کی طویل عرصے سے مؤخر فروخت کا حصہ ہے — سے توقع کی جا رہی ہے کہ رواں مالی سال (جون 2026 تک) میں تیزی آئے گی، کیونکہ گزشتہ سال اس سلسلے میں پیش رفت محدود رہی تھی۔

اورنگزیب نے کہا کہ “یہ اقدام ہماری معاشی حکمتِ عملی کا ایک نہایت اہم جز ہے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور قومی فضائی کمپنی، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی فروخت کے عمل میں بھی نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ “ہم خاصے پُرامید ہیں،” ان کے بقول یورپ اور برطانیہ کے منافع بخش فضائی راستے بحال ہونے کے بعد اب پی آئی اے کے لیے اہل سرمایہ کاروں کی بولیوں کے امکانات بہتر ہو گئے ہیں، جس سے یہ موقع سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی پرکشش بن گیا ہے۔

یہ سودہ قریب دو دہائیوں میں پاکستان کی پہلی بڑی نجکاری ثابت ہوگا۔ گزشتہ سال نجکاری کی ایک کوشش اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب حکومت کو محض ایک کم قیمت پیش کش موصول ہوئی، تاہم اب حکومت کو پانچ ملکی کاروباری گروپس کی جانب سے دلچسپی حاصل ہوئی ہے، جن میں ایئر بلیو، لکی سیمنٹ، عارف حبیب انویسٹمنٹ کمپنی اور فوجی فرٹیلائزر شامل ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق حتمی بولیاں رواں سال کے آخر تک متوقع ہیں۔