امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت حماس کو غیر مسلح کرنے کی تجویز کو حماس نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حماس کے ایک عہدیدار نے ہفتے کے روز اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہتھیار ڈالنے کی تجویز ناقابلِ قبول اور ناقابلِ مذاکرات ہے۔‘‘
امریکی صدر نے اشارہ دیا ہے کہ حماس کے ہتھیار ڈالنے کا معاملہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں زیرِ غور آئے گا۔
20 نکاتی اس امن منصوبے میں کہا گیا ہے کہ جو حماس ارکان اپنے ہتھیار چھوڑ دیں گے، انہیں عام معافی دی جائے گی اور انہیں غزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی۔
حماس کے عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی برقرار ہے اور پیر کے روز اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے 72 گھنٹے کی مہلت ختم ہونے والی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے لیے حماس کا غیر مسلح ہونا اور اسرائیلی افواج کا انخلا دو ایسے مرکزی اختلافی نکات ہیں جو اب بھی حل طلب ہیں حالانکہ دو سالہ تباہ کن جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں۔