آئی ایم ایف نے وزارت خزانہ کے ساتھ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز شیئر کر دیا
- پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پہلے جائزے کیلئے مذاکرات بے نتیجہ رہے
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستانی حکام کے درمیان سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے کے لیے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔
آئی ایم ایف کی پاکستانی مشن چیف اوا پیٹرووا کی قیادت میں آئی ایم ایف کی ٹیم نے 25 ستمبر سے پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا جو 8 اکتوبر تک جاری رہی، تاہم سرکاری ذرائع نے بتایا کہ عملے کی سطح کا معاہدہ ابھی تک طے نہیں پایا۔
اس رپورٹ کے تحریر ہونے تک نہ تو حکومت کی جانب سے اور نہ ہی آئی ایم ایف کی جانب سے کوئی بیان جاری کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے وزارتِ خزانہ کے ساتھ ڈرافٹ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (ایم ای ایف پی) شیئر کیا ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق، جیسے ہی ایم ای ایف پی پر دستخط ہوں گے، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان عملے کی سطح کا معاہدہ طے پا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ تمام اہداف پورے کر لیے ہیں۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ مذاکرات کا اختتام بدھ کو ہونا تھا، جس کے بارے میں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بات چیت ٹریک پر ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اہم اہداف پر آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے قائم ہو چکا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے میڈیا کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں یہ بھی زور دیا کہ پاکستان اپنے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025