500 ملین ڈالر کی ادائیگی کے بعد پاکستان کی آئندہ سال 1.3 ارب ڈالر کے یوروبانڈ کی ادائیگی کی یقین دہانی
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کو کہا کہ پاکستان آئندہ سال اپریل میں میچور ہونے والے 1.3 ارب ڈالر کے یوروبونڈ کی ادائیگی کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔ وزیرِ خزانہ نے معاشی استحکام میں بہتری اور مالی اعانت کے زیادہ پیشگوئی والے منظرنامے کو اجاگر کیا۔
وزیرِ خزانہ نے پشاور میں نٹ شیل گروپ کے زیرِ اہتمام پاکستان بزنس سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے 30 ستمبر کو 500 ملین ڈالر کے یوروبانڈ کی کامیاب ادائیگی کردی، جو بالکل معمولی معاملہ تھا، ہم 1.3 ارب ڈالر کے یوروبونڈ کی ادائیگی کے لیے بھی بہتر پوزیشن میں ہیں، جو اپریل 2025 میں میچور ہوگا۔
واضح رہے کہ وزارتِ خزانہ نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان نے کامیابی کے ساتھ اپنا 500 ملین ڈالر کا یوروبونڈ ادا کردیا ہے جو 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا، یہ بانڈ 2015 میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے 10 سالہ مدت کے ساتھ جاری کیا گیا تھا۔
وزیرِ خزانہ نے ترسیلاتِ زر کے حوالے سے بتایا کہ رسمی معیشت میں ترسیلاتِ زر کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال ہمارے پاس 38 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر آئیں، رواں سال ہم توقع کررہے ہیں کہ یہ 41 سے 43 ارب ڈالر کے درمیان ہوں گی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں پالیسی ریٹ جو 11 فیصد پر مستحکم ہے میں کمی متوقع ہے۔ اگرچہ پالیسی ریٹ مکمل طور پر مرکزی بینک کے دائرہ اختیارمیں ہے لیکن اتنی گنجائش موجود ہے کہ ہم اس مالی سال کے دوران ریٹ کو مزید کم کرنے کے اقدامات جاری رکھ سکتے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ نجی شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے ساتھ ایک ساختی اصلاحاتی ایجنڈا بھی عمل میں لایا جائے۔
وزیرِ خزانہ نے نجی شعبے کو فروغ دینے کے لیے ساختی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ٹیکس حکام کے اعتماد اور ساکھ کو دوبارہ بحال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ہم ٹیکس کی بنیاد کو گہرا اور وسیع کرنے میں پیش رفت کر رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ فنانس ڈویژن کے ٹیکس پالیسی دفتر کی جانب سے پیش کیا جائے گا۔
نجکاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 24 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جاچکے ہیں۔
وفاقی وزیر نے جاری مالی سال کے لیے پاکستان کے ترقیاتی بجٹ کا بھی ذکر کیا جو 4.3 ٹریلین روپے (تقریباً 12 سے 13 ارب ڈالر) ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم فنڈز کے استعمال میں ترجیحات درست رکھیں اور وفاق و صوبوں کے درمیان ہم آہنگی قائم ہو تو وسائل کافی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اقوامِ متحدہ سے اپیل کرنے کے بجائے ان فنڈز کو حالیہ سیلاب کے بعد ریسکیو اور ریلیف کے لیے دوبارہ مختص کرسکتی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بیجنگ، ریاض، نیویارک اور واشنگٹن کے حالیہ دوروں سے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ چین میں 24 جوائنٹ وینچرز پر دستخط کیے گئے جو محض ایم او یوز نہیں تھے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ یہ سب ہمارے لیے کلیدی مارکیٹس اور اہم دو طرفہ شراکت دار ہیں، جنہوں نے فنڈ پروگرام میں ہماری مدد کی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مستقبل میں تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کی توقع ہے۔
امریکہ کے ساتھ تجارت کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ دونوں ممالک نے معدنیات، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، زراعت اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں میں اہم سمجھوتے کیے ہیں، ہم نے نسبتاً ٹیرف ریٹ کے معاملے میں بھی بہتر پوزیشن حاصل کی ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ حکومت انٹرنیشنل کیپٹل مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہونے کی تیاری کررہی ہے اور سال کے آخر تک چین میں پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی سرمایہ کاری مارکیٹ سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔