اگست 2024 میں ’جرنل آف مانیٹری اکنامکس‘ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون ’2020 سے مہنگائی کے بین الاقوامی عروج و زوال کو سمجھنا‘ میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے تین مصنفین اور ایک شریک محقق نے دو ایسی بڑی وجوہات کی نشاندہی کی، جو بظاہر آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام اور ’شکاگو بوائز‘ طرز کے مقامی پالیسی سازوں کی عمومی پالیسی سوچ سے متصادم ہیں۔

چنانچہ، مذکورہ تحقیقی مقالے، جو 10 ترقی یافتہ اور 4 ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، نے مجموعی طور پر مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ بیرونی عوامل کو قرار دیا، جب کہ مالیاتی پالیسی کو ثانوی سبب قرار دیا گیا، جس کے استعمال (یعنی سختی) میں کمی کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا، کیونکہ ان جھٹکوں کا اثر زیادہ تر بنیادی افراطِ زر (کور انفلیشن) پر پڑا، جس میں خوراک اور توانائی کی قیمتیں شامل نہیں ہوتیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایسے بیرونی جھٹکوں نے پہلے مجموعی افراطِ زر (ہیڈلائن انفلیشن) کو متاثر کیا، جو کہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) جیسے زیادہ تغیر پذیر پیمانوں سے ماپا جاتا ہے اور پھر بالواسطہ طور پر بنیادی افراطِ زر پر اثر انداز ہوئے۔

اس حوالے سے مقالے میں لکھا گیا ہے: ہمارے نتائج واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی عوامل، بالخصوص توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ، 2020 کے بعد افراطِ زر کے عالمی عروج و زوال میں غالب عنصر رہے۔ مقامی پالیسیوں نے بھی ایک حد تک کردار ادا کیا۔

اول، ہیڈ لائن شاکس کے بنیادی افراطِ زر تک منتقلی کی نوعیت مقامی معاشی خصوصیات سے متاثر ہوئی۔ …تاہم، ہمارے اندازے ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت تک نسبتاً قیمتوں میں جھٹکوں اور ان کے بنیادی افراطِ زر تک منتقل ہونے کا عمل بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے، جومہنگائی کے ہدف سے ہم آہنگ سطحوں تک واپس آنے میں معاون ہے۔ مختلف معیشتوں میں طویل مدتی مہنگائی کی توقعات کا عمومی استحکام بھی مہنگائی کو ہدف کی سطح پر واپس لانے میں مدد دے رہا ہے۔

یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) دونوں نے مالیاتی پالیسی کے حوالے سے حد سے زیادہ احتیاط کا مظاہرہ جاری رکھا، حالانکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ایسا کوئی بڑا جھٹکا سامنے نہیں آیا۔ روس-یوکرین تنازع کے ابتدائی مرحلے میں جو بلندیاں دیکھی گئیں، ان کے مقابلے میں قیمتیں کافی کم سطح پر رہیں اور گزشتہ کئی مہینوں سے نسبتاً مستحکم بھی رہی ہیں۔ اسی طرح اپریل کے آغاز میں عائد کیے گئے تجارتی ٹیرف بھی زیادہ تر وقت معطل ہی رہے، اور امکان ہے کہ امریکہ کے بیشتر تجارتی شراکت داروں، بشمول پاکستان، کے لیے یہ مزید نرم کیے جائیں گے۔

اس کے باوجود، افراطِ زر کے دباؤ میں یہ نسبتاً نرمی، جیسا کہ مذکورہ تحقیقی مقالے سے ظاہر ہے، اور یہ حقیقت بھی کہ مالیاتی سختی (مانیٹری ٹائٹننگ) کا کافی عرصہ گزر چکا ہے، جس سے کئی مہینوں سے مجموعی طلب (اگریگیٹ دیمانڈ) شدید دباؤ کا شکار ہے، پھر بھی آئی ایم ایف اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے بلاجواز احتیاط کے ساتھ نمٹ رہی ہے۔ اس کا مظاہرہ آئی ایم ایف کی مئی میں جاری کردہ تازہ ترین ملک رپورٹ میں بھی ہوا، جس میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی پالیسی کو سخت اور ڈیٹا پر مبنی رکھنا چاہیے تاکہ افراطِ زر ایس بی پی کے مقرر کردہ ہدف کی حد کے اندر معتدل رہے۔

اسی طرح، اسٹیٹ بینک نے 30 جولائی کو جاری کردہ اپنی تازہ مالیاتی پالیسی میں حیران کن طور پر عالمی تیل کی قیمتوں کو ’غیر یقینی‘ اور ’غیر مستحکم‘ قرار دیا، اور عالمی تجارتی ٹیرف کے اثرات کو بھی غیر یقینی کہا، جس کی بنیاد پر پالیسی ریٹ کو نہ صرف مجموعی افراطِ زر (سی پی آئی) بلکہ بنیادی افراطِ زر ( کور انفلیشن) سے بھی کہیں اوپر برقرار رکھا گیا۔

سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک توانائی کی قیمتوں میں ’متوقع سے زیادہ‘ ایڈجسٹمنٹ جیسے بنیادی طور پر رسدی (سپلائی سائیڈ) عوامل کو بھی پالیسی ریٹ کو جواز فراہم کرنے کی بنیاد بنا رہا ہے، حالانکہ ایسے اسباب عمومی طور پر مالیاتی پالیسی سے نہیں نمٹائے جاتے۔

آئی ایم ایف اور اسٹیٹ بینک کی اس حد سے زیادہ محتاط پالیسی کا معیشت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اوسط اقتصادی ترقی کی شرح 2 سے 3 فیصد کے درمیان رہی، جو کہ تقریباً آبادی کی شرحِ افزائش کے برابر ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے اور عالمی بینک کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً آدھی آبادی اب اس لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ بیروزگاری کی شرح بھی روایتی سطحوں کے مقابلے میں غیرمعمولی طور پر بلند ہے۔

اسٹیٹ بینک کی غیر ضروری احتیاط کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نومبر 2024 سے جون 2025 تک گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح محض 2.6 فیصد رہی، اس کے باوجود پالیسی ریٹ میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں کی گئی تاکہ حقیقی سود کی شرح کو مناسب حد میں رکھا جا سکے۔ جون میں مجموعی صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے مطابق حقیقی سود کی شرح 7.8 فیصد ہے، جب کہ بنیادی افراطِ زر (کور انفلیشن) کے مقابلے میں یہ 4.1 فیصد بنتی ہے۔ اس تناظر میں، پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کم از کم حیران کن ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسے کافی پہلے اور نمایاں حد تک کم کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ بات تو ’کم کہی گئی بات‘ ہے، اگر اس میں بیس ایفیکٹ ( ایک شماریاتی مظہر ہے، جو عمومی طور پر مہنگائی یا دیگر معاشی اشاریوں کی سالانہ شرح میں اضافے یا کمی کے تاثر کو متاثر کرتا ہے، نہ کہ حقیقی تبدیلی کو)، بیرونی رسدی عوامل اور مقامی توانائی قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ جیسے عوامل کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔

یہ بات اس لیے بھی ’کم کہی گئی‘ ہے کہ پالیسی ریٹ کو حالیہ برسوں میں افراطِ زر کے نمایاں اضافے کے ردِعمل میں اتنا بلند کیا ہی نہیں جانا چاہیے تھا — خاص طور پر اس وقت جب افراطِ زر نیچے آنا شروع ہو چکا تھا۔ کیونکہ ترقی پذیر ممالک، جیسے کہ پاکستان، میں اور بالخصوص کووڈ-19 کے بعد کے حالات میں افراطِ زر ایک حد تک مالیاتی یا سپلائی سائیڈ مظہر ہوتا ہے، نہ کہ صرف طلب پر قابو پانے کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکنے والا مسئلہ۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کو اپنی 28 جنوری، 2022 کی ترمیم شدہ ’اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ، 1956‘ کے تحت بنیادی مقصد کے طور پر ملکی قیمتوں کی استحکام حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہے، جسے وہ ’مانیٹری اور کریڈٹ سسٹم کو منظم کرنے‘ کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی عمومی اقتصادی پالیسیوں کی معاونت کرے تاکہ ملک کے پیداواری وسائل کا بہتر استعمال اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

اس تناظر میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایس بی پی کی حد سے زیادہ محتاط حکمتِ عملی، جو عمومی طور پر آئی ایم ایف کے سخت اقتصادی پروگرامز، بشمول موجودہ توسیعی فنڈ سہولت یا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام، کے تحت اور ان پروگراموں سے باہر بھی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، جس میں اس نے پالیسی ریٹ کے آلے کو ضرورت سے زیادہ استعمال کیا ہے، خاص طور پر اس غلط فہمی کی بنیاد پر کہ مجموعی طلب کو سختی سے محدود کرنا ضروری ہے، حالانکہ مہنگائی کے تعین میں مجموعی رسد کے عوامل کا اثر واضح اور خاص طور پر کووڈ 19 وبا کے بعد اور ماحولیاتی بحران کے وجودی خطرات کے عالم میں نمایاں ہے، مناسب جواب حاصل کیا جا سکتا ہے؟

واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایس بی پی کا مقصد صرف قیمتوں کی استحکام نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ مہنگائی کو اس حد تک قابو میں رکھے جو اقتصادی ترقی اور ملک کے پیداواری وسائل کے بہتر استعمال کے لیے سازگار ہو۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حد سے زیادہ سختی والی مالیاتی پالیسی، جو مجموعی طلب کو غیر ضروری طور پر دباتی ہے، اور مجموعی رسد کی جانب ادارہ جاتی اصلاحات جیسے کہ اقتصادی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، مارکیٹ کی گورننس، ترغیبات اور ضوابط کی اصلاح پر مناسب توجہ نہ دینا، قیمتوں کی استحکام کے مقصد کو معاشی ترقی کی زیادتی کے بغیر صرف مختصر مدتی مہنگائی کی کمی تک محدود کر دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کے ضمنی اثرات کے طور پر لین دین کے اخراجات میں اضافہ اور رسد کے مسائل کے باعث مہنگائی میں دوبارہ اضافے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

وسیع تر تناظر میں، مالیاتی گنجائش (فسکل اسپیس) کا تحفظ خاص طور پر حالیہ عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، ماحولیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز)، اور اقتصادی لچک جیسے اخراجات کے بڑھنے کے پیش نظر انتہائی اہم ہو گیا ہے، جس کے لیے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنا ناگزیر ہے۔ تاہم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حد سے زیادہ محتاط اور یک طرفہ حکمت عملی، جس میں افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کے لیے پالیسی ریٹ پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے، اسے مجموعی اقتصادی ترقی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے سے روکتی ہے۔ اسی حوالے سے، اگرچہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، لیکن حکومت کی نمائندگی اور اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) میں حکومت کے کردار کو بڑھانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، کمیٹی میں وسیع تر معاشی نظریاتی نمائندگی ہونی چاہیے تاکہ مختلف اقتصادی نظریات کی عکاسی ہو۔ موجودہ صورتحال میں، لگتا ہے کہ نیو لبرل نظریات کے حامل اراکین اکثریت میں ہیں، جو مالیاتی پالیسی کے عمومی بیانات اور تازہ ترین پالیسی میں بھی واضح نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں سنگاپور کی مانیٹری اتھارٹی (ایم اے ایس) کے تجربات سے کچھ سبق حاصل کیا جا سکتا ہے، جہاں اقتصادی و مالیاتی حکمت عملیوں کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر بہتر نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔

اقتصادیات میں صدمے کی دوا (شاک تھراپی) کی ذہنیت معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی۔ اب ضرورت ہے کہ میکرو اور مائیکرو سطح پر اقدامات کو زیادہ مرکوز اور تخلیقی انداز میں اپنایا جائے۔ مثال کے طور پر، چینی کے شعبے میں مارکیٹ کی حد سے زیادہ اجارہ داری کی وجہ سے قیمتوں میں ناجائز اضافہ یا (گرِیڈفلیشن) کہلانے والی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جسے قابو پانے کے لیے مجموعی طلب اور رسد دونوں پہلوؤں پر متوازن توجہ دینا ضروری ہے۔ اسی طرح، مہنگائی پر اثر انداز ہونے والے بیرونی عوامل کو بھی متوازن انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔

معروف ماہرِ معاشیات ایزابیلا ایم ویبر اور اُن کے ساتھی محققین نے اپنی 2025 میں شائع ہونے والی تحقیق ’Implicit coordination in sellers‘ inflation: How cost shocks facilitate price hikes’ میں زور دیا ہے کہ جب قیمتوں میں اضافہ بیچنے والوں کی مہنگائی (seller’s inflation) کی صورت میں لاگت کے جھٹکوں سے جنم لیتا ہے، تو ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مائیکرو سطح پر، خاص طور پر شعبہ جاتی پالیسی مداخلت ناگزیر ہو جاتی ہے۔

اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہم ایسے شواہد پیش کرتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ معیشت میں پھیلے ہوئے لاگت کے جھٹکے قیمت بنانے والی کمپنیوں کے لیے ایک ضمنی ہم آہنگی (امپلیسٹ کوآرڈینیشن) کا کام کرتے ہیں، جو رسد کے جھٹکوں اور اجناس کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو مختلف شعبوں میں قیمتوں میں اضافے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ جب کوئی ایک کمپنی قیمت بڑھاتی ہے تو اسے مارکیٹ شیئر کھونے کا خطرہ ہوتا ہے، مگر جب معیشت میں لاگت کے جھٹکے پورے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں تو یہ تمام کمپنیوں کو ایک ہی وقت میں قیمتیں بڑھانے کا اشارہ دیتے ہیں، اور وہ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر قیمتوں کو ہم آہنگی کے ساتھ بڑھاتے ہیں۔ اگر رسد میں مزید رکاوٹیں لاگت کے جھٹکوں کے ساتھ ہوں تو یہ ہم آہنگی اور مضبوط ہو جاتی ہے۔

علاوہ ازیں مذکورہ تحقیقی مقالے میں دیگر تجاویز کے ساتھ درج ذیل سفارشات بھی پیش کی گئیں: اول، معیشت میں وسیع پیمانے پر لاگت کے جھٹکوں سے بچنے کے لیے اُن بنیادی پیداواری شعبوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں… ایسے اہم شعبے جنہیں ناکامی کی اجازت نہیں دی جا سکتی ( ٹو ایسنشل ٹو فیل) وہاں قیمتوں میں تیزی سے اضافے کو روکنے کے لیے سخت ضوابط، نگران عمل، شعبہ جاتی تحقیقات اور اجارہ داری مخالف قوانین پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ اگر دیگر استحکامی اقدامات ناکام ہو جائیں تو قیمتوں پر کنٹرول کو ایک ہنگامی آخری حل کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔ دوم، ایسی پالیسی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں جو اُن کمپنیوں پر لاگت عائد کریں جو لاگت کے جھٹکوں کا بہانہ بنا کر حد سے زیادہ قیمتیں بڑھاتی ہیں۔

یہ ایک واضح راستہ فراہم کرتا ہے کہ بجائے اس کے کہ سود کی شرح کو مہنگائی پر قابو پانے کا غیر ضروری حد تک استعمال کیا جائے، پالیسی کے متبادل کے طور پر شعبہ جاتی سطح پر قیمتوں پر کنٹرول جیسے اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایک تکمیلی حکمتِ عملی کے طور پر ’دوہری قیمتوں کا نظام‘ (ڈیول ٹریک پرائسنگ سسٹم) بھی اپنایا جا سکتا ہے، جیسا کہ 1980 کی دہائی میں چین نے کیا تھا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025