سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان اختر باجوہ نے منگل کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو آگاہ کیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کے خریدار کو ایئرلائن کی نجکاری کے نظرثانی شدہ بزنس پلان کے تحت پانچ سال میں 70 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کی، جس میں سینیٹر زیشان خانزادہ، بلال احمد خان، ندیم احمد بھٹو، محسن عزیز اور وزارتِ نجکاری، پاور ڈویژن اور زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے دیگر حکام شریک ہوئے۔

سیکریٹری جکاری کمیشن نے قومی ایئر لائن کی نجکاری کے نئے منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے پری کوالیفائیڈ کمپنیوں کا ڈیُو ڈلیجنس عمل شروع ہو گیا ہے۔ آئندہ ہفتے سے پری کوالیفائیڈ کمپنیوں کے لیے سائٹ وزٹس اور ماہرین کے سیشنز ہوں گے، جن میں طیاروں کی حالت اور روٹس پر بریفنگ شامل ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ 14 اگست سے مانچسٹر کے لیے پی آئی اے پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم شمالی امریکا کے روٹس پر سیکیورٹی خدشات موجود ہیں، جنہیں حل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا موجودہ بزنس ماڈل پائیدار نہیں اور گزشتہ نیلامی میں سرمایہ کاروں نے مطالبات پورے نہ ہونے پر معاہدہ منسوخ کیا تھا۔ اب سرمایہ کاروں کو طیارے خریدنے پر سیلز ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔

حکومت کو پی آئی اے چلانے کے لیے سالانہ 100 ارب روپے فراہم کرنا پڑتے تھے۔ پچھلے مالیاتی مشیر کی خدمات دوبارہ حاصل کر لی گئی ہیں۔ کمیٹی نے پی آئی اے پنشنرز کی شکایات پر مشتمل رپورٹ کا بھی جائزہ لیا۔ بتایا گیا کہ 6,625 ملازمین کی پنشن واجبات 14.87609 ارب روپے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پنشن کی رقم انتہائی کم ہے، لوگ کیسے گزارا کریں؟ وزارت نے وضاحت دی کہ پنشن پالیسیوں کا سالانہ جائزہ لے کر انہیں اپڈیٹ کیا جاتا ہے۔ چیئرمین نے ہدایت دی کہ گریڈ وار پنشن تفصیلات اگلی میٹنگ میں پیش کی جائیں۔

نجکاری کمیشن نے بتایا کہ جولائی 2025 میں بورڈ نے پری کوالیفائیڈ بولی دہندگان کی منظوری دی: (i) کنسورشیم: لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز؛ (ii) کنسورشیم: عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز؛ (iii) فوجی فرٹیلائزر کمپنی؛ اور (iv) ایئر بلیو لمیٹڈ۔ کنسورشیم جس میں اسل، سیرین ایئر، بحریہ فاؤنڈیشن، میگا سی اینڈ ایس ہولڈنگ اور ایکویٹاس کیپیٹل شامل تھے، مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث نااہل قرار پائے۔

نجکاری کمیشن کے مطابق، بولی دہندگان کو بائے سائیڈ ڈیُو ڈلیجنس کے لیے ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی دی گئی ہے اور انہیں بولی کے حتمی دستاویزات پر بات چیت کے لیے پری بڈ کانفرنس میں مدعو کیا جائے گا۔

پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے بارے میں سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ ان کمپنیوں کو اثاثوں کی منتقلی، گرڈ اسٹیشنز کی ملکیت، اور حکومتی محکموں سے واجبات کی وصولیوں میں مسائل کا سامنا ہے۔ ریگولیٹری فریم ورک، سرکاری اداروں کو ادائیگیاں اور پنشن واجبات بھی چیلنجز میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کے 51 سے 100 فیصد اثاثے فروخت کیے جائیں گے اور تین ڈسکوز رواں مالی سال کے دوران جنوری سے جون کے درمیان نجی شعبے کے حوالے کی جائیں گی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان منرلز ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) نجکاری فہرست میں شامل نہیں۔ سینیٹر زیشان خانزادہ نے سوال اٹھایا کہ یہ ادارہ کیوں نجکاری کیا جا رہا ہے اور زمین کی الاٹمنٹ کا کیا جواز ہے؟ سینیٹر بلال احمد خان نے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کے رقبے اور معدنی پیداوار کی تفصیلات طلب کیں۔ وزارت نے وضاحت دی کہ کابینہ کمیٹی برائے ایس او ایز اداروں کا جائزہ لیتی ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کو اگلی میٹنگ میں بلایا جائے۔

زرعی ترقیاتی بینک کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ ادارہ اگست 2024 میں حکومت کی منظوری سے نجکاری کی پہلی فہرست میں شامل ہے۔ کل 24 اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔ مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔

سینیٹر افنان اللہ نے تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی میٹنگ 31 جنوری کو ہوئی تھی اور چھ ماہ بعد بھی تقرری مکمل نہیں ہو سکی۔ وزارت نے وضاحت دی کہ زیادہ فیس کے مطالبات، جو تقریباً 500 ملین روپے تک پہنچ گئے، عمل میں تاخیر کا باعث بنے۔ اب پورا عمل نو ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ سینیٹر زیشان خانزادہ نے مجموعی نجکاری عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس کے جواز پر کمیٹی میں تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025