تاجر برادری نے منگل کے روز مجوزہ ملک گیر ہڑتال کو فی الحال مؤخر کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ حکومت نے اس ضمن میں ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی ہے، جس کی سربراہی وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کریں گے۔ یہ کمیٹی 30 دن کے اندر وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کو تاجر برادری کے تحفظات کا قابلِ عمل حل پیش کرے گی۔
یہ تصدیق خود ہارون اختر خان اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔ اس اجلاس کا انعقاد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے ملک بھر کے تجارتی چیمبرز اور تنظیموں کو مذاکرات کے لیے بلایا گیا تھا۔
تاہم کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے بتایا کہ ہڑتال مؤخر کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ بدھ کے روز (آج) کیا جائے گا۔
جاوید بلوانی کے مطابق حکومت نے واضح طور پر کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن تمام اقدامات پر ہمیں تحفظات ہیں، وہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط سے جوڑ دیے ہیں، جس کے بعد ہمارے مطالبات کے پورے ہونے کی امید بہت کم رہ جاتی ہے۔
تاجر برادری میں 19 جولائی 2025 بروز ہفتہ مجوزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے حوالے سے تقسیم نظر آئی، جس کا مقصد فنانس ایکٹ 2025 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی ار) کو دیے گئے غیر معمولی اختیارات کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ حکومت نے ان مذاکرات کے بعد وزارتِ خزانہ میں ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا، جو 30 دن کے اندر حل تجویز کرے گی۔
لاہور اور کراچی کے چیمبرز کے صدور نے کیو بلاک (وزارت خزانہ) کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم ہڑتال کی کال اس وقت ہی واپس لیں گے جب حکومت فنانس ایکٹ 2025 پر عملدرآمد، بشمول دفعہ 37A کے تحت گرفتاری کے اختیارات، 2 لاکھ روپے نقد ادائیگی، ای بلٹی اور دیگر شقوں کو تحریری طور پر مؤخر کرے گی۔
دوسری جانب ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے تین گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد اعلان کیا کہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور اب 19 جولائی کو کوئی ہڑتال نہیں ہوگی۔
لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ ان کا ادارہ 19 جولائی کو ہڑتال کرے گا اور دیگر کئی چیمبرز بھی اس میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک فنانس ایکٹ 2025 کی مختلف شقوں پر عملدرآمد مؤخر نہیں کیا جاتا، ہم ہڑتال کی کال واپس نہیں لیں گے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق حکومت فنانس ایکٹ 2025 کو پہلے ہی پارلیمنٹ اور صدرِ پاکستان کی منظوری سے نافذ کر چکی ہے، اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ان اقدامات کو واپس لینا مشکل ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اسلام آباد میں ملک کی تاجر برادری، چیمبرز آف کامرس اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فنانس ایکٹ 2025 کی شق 37A اور دیگر نکات پر بات چیت کی گئی۔
وزیر خزانہ نے اجلاس کے دوران تاجر برادری کو حکومت کے مکمل تعاون اور شفافیت کی یقین دہانی کرائی اور واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد صرف ٹیکس فراڈ کی روک تھام ہے، کسی بھی جائز کاروبار کو ہراساں کرنا نہیں۔
یہ طے پایا کہ ہارون اختر خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل، ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال، اور تاجر برادری کے نامزد نمائندگان شامل ہوں گے۔
کمیٹی آئندہ 30 دنوں میں تفصیلی مشاورت کرے گی اور ایک متفقہ حل وزیر اعظم اور کابینہ کو پیش کرے گی۔ حکومت نے تاجر برادری کے تحفظات اور تجاویز کو سنجیدگی سے سنا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ کاروباری طبقے کے مفادات کا مکمل خیال رکھا جائے گا اور ان کے لیے کسی قسم کی مشکلات پیدا نہیں کی جائیں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025