تجارتی تنظیموں کے رہنماؤں نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فنانس بل میں شامل تمام سیاہ قوانین، خصوصاً سیکشن 37A اور 37B کو فوری طور پر ختم کریں،اگر ان سیاہ قوانین کو واپس نہ لیا گیا تو 19 جولائی کو ملک بھر کی صنعتیں بند کردی جائیں گی۔
انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ایسے قانون سازوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے جو ایسے قوانین بناتے ہیں جو کاروباری طبقے کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے وزیراعظم شہباز شریف جو خود بھی کاروباری شخصیت ہیں سے گزارش کی کہ وہ اس سارے قوانین کو ختم کریں اور جن لوگوں نے یہ قانون بنائے ہیں اُن کو کٹہرے میں لائیں جو بے چینی اور انتشار پھیلانے والے قانون بنارہے ہیں اور کاروباری حلقوں میں نا امیدی پیدا کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کاروبار کو آسان کیوں نہیں بناتے اور ایسا نظام کیوں نہیں بناتے جہاں ٹیکس براہِ راست قومی خزانے میں جمع ہو؟ ہم ٹیکس دینا اور ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں، لیکن باعزت طریقے سے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم سے درخواست کی کہ ایف بی آر کی قانون سازی میں پاکستان کے تمام چیمبرز کے صدور کو شامل کیا جائے تاکہ زمینی حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مؤثر اور قابلِ عمل قانون سازی کی جا سکے۔
احمد عظیم علوی نے فنانس بلمیں متعارف کرائے گئے سیکشن 37اے اور 37 بی جیسے کالے قانون کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور واضح طور پر حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ صنعتکار برادری کسی صورت بھی ایسے قوانین کو برداشت نہیں کرے گی، مذکورہ قوانین جس کے تحت ایف بی آر افسران کو یہ اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ ایماندار ٹیکس دہنگان کو صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کر سکتا ہے حتیٰ کہ ایف آئی آر بھی کٹوا سکتا ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت اقدام ہے۔
احمد عظیم علوی نے سائٹ ایریا کے تمام صنعتکاروں کی مضبوط آواز بلند کرتے ہوئے کراچی چیمبر سمیت ملک کے تمام چیمبرز کی جانب سے 19جولائی کو ہڑتال کی کال کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے کالے قوانین واپس نہ لیے تو 19جولائی کو کراچی کے سب سے بڑے صنعتی زون سائٹ کی صنعتوں کو تالے لگا دیں گے اور پیداواری سرگرمیاں بند ہونے سے برآمدات کی ڈیلیوری تاخیر کا شکار ہونے اور ورکرز کے بے روزگار ہونے کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
صدر سائٹ ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھرمیں کاروبار کرنے اور صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں، ٹیکسوں میں ریلیف دیا جاتا ہے اور سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ معیشت کو مستحکم ہو، روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں اور بزنس کمیونٹی کا اعتماد مستحکم ہو مگر ہمارے ملک پاکستان میں صورتحال بالکل برعکس ہے۔کون لوگ ہیں جو ایسے قانون بنا رہے ہیں جو پاکستان کو پیچھے کی طرف لے جانا چاہتے ہیں؟ کیا حکومت نہیں جانتی کہ کاروبار چلے گا اور صنعتی پہیہ گھومے گا تو حکومت کو ریونیو ملے گا اور لوگوں کو روزگار ملے گا جب کاروبار اور صنعتیں ہی بند ہو جائیں گی تو حکومت کس سے ریونیو وصول کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے قوانین بنائے جارہے ہیں کہ لوگ اپنا کاروبار ختم کرکے پاکستان سے بھاگ جائیں، ملک میں انتشار پیدا ہو اور کون لوگ ہیں کہ ملک میں فساد پھیلانا چاہتے ہیں،ہم نے کراچی چیمبر کے صدرجاوید بلوانی سے ملاقات کرکے سائٹ کے صنعتکاروں میں پائے جانے والے تحفظات سے آگاہ کیا اور ان مسائل کے حل کے لیے کراچی چیمبر کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی ہم سیکشن 37اے اور 37 بی کے مسئلے سے نہیں نمٹ پائے تھے کہ ای فائلنگ اور ای بلٹی جیسے نئے مسائل کھڑے کردیے گئے۔
انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ چاہتی کیا ہے؟ کیا بزنس کمیونٹی اپنا کاروبار، صنعتیں بند کرکے گھر بیٹھ جائے یا پھر کسی اور ملک منتقل ہوجائے؟۔ہمیں اگر معاشی طاقت بننا ہے تو ہوش سے کام لینا ہوگا اور اپنے لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے بجائے ایسا سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں لوگ بلا خوف وخطر اپنا کاروبار کرسکیں اور صنعتیں چلاسکیں۔
انہوں نے ایف بی ر افسران سے سوال کیا کہ انہوں نے نئے قوانین نافذ کر نے سے قبل کتنے آگاہی سیشن منعقد کیے۔ایسے قانون نہیں لائے جاتے جو ہراسانی کا باعث بنیں۔ہمارے نزدیک مذکورہ کالے قوانین سے صرف ایف بی آر کے 22 ہزار ملازمین کی جیبیں بھریں گی۔کاروباری حلقے، شریف آدمی یہاں سے بھاگ جائے گا۔خاص طور پر ایس ایم ایز سیکٹر تباہ ہوجائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025