ملک بھر میں 19 جولائی کو ہڑتال کی کال اور چیمبرز آف کامرس و تجارتی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے اعلان کے بعد حکومت نے کاروباری برادری سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔

کاروباری برادری کے رہنماؤں کے مطابق، حکومت نے مختلف چیمبرز آف کامرس کے صدور اور تجارتی تنظیموں کے عہدیداروں کو مجوزہ ٹیکس اصلاحات، ریٹیل ٹیکس اور دیگر مالیاتی امور پر بات چیت کے لیے اسلام آباد مدعو کیا ہے۔

حکومتی نمائندوں نے کاروباری رہنماؤں کو یقین دلایا ہے کہ ان کے تحفظات سنے جائیں گے اور باہمی اتفاق رائے سے قابل قبول حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے جواب میں کاروباری برادری کی اعلیٰ قیادت اور مختلف تنظیموں کے عہدیداران نے مشترکہ مؤقف کے لیے اندرونی مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، تجارتی رہنما اسلام آباد روانگی سے قبل مشاورت اور اتفاق رائے پر زور دے رہے ہیں تاکہ مذاکرات کے دوران ایک واضح اور متحد مؤقف اپنایا جا سکے۔ متفقہ حکمت عملی اور آئندہ لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان آج کسی وقت متوقع ہے۔

موجودہ احتجاجی فضا اور 19 جولائی کی مجوزہ ملک گیر ہڑتال کے تناظر میں یہ مذاکرات انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ وہ غیر منصفانہ ٹیکس پالیسیوں کے خلاف پرعزم ہے، تاہم پرامن بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے بھی تیار ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025