ڈیجیٹل سروسز پر سیلز ٹیکس صوبوں کا اختیار، سولر پینلز پر جی ایس ٹی کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا
ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیجیٹل سروسز پر سیلز ٹیکس صوبائی دائرہ اختیار میں رہے گا، جبکہ سولر پینلز پر مجوزہ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کو کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔
بدھ کے روز بجٹ اجلاس کے دوران ڈپٹی وزیراعظم نے ایوان کو بتایا کہ بجٹ سے متعلق متعدد حساس نکات پر اتحادی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد اتفاقِ رائے سے فیصلے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکس سے متعلق خدشات بجا تھے۔ اس حوالے سے ایف بی آر سمیت تمام فریقین سے مشاورت کی گئی اور فیصلہ ہوا کہ یہ ٹیکس آئینی طور پر صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس پر حتمی وضاحت وزیر خزانہ اپنی بجٹ تقریر کے اختتامی کلمات میں کریں گے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ سولر پینلز پر 18 فیصد جی ایس ٹی کی تجویز پر شدید بحث ہوئی، بعد ازاں معلوم ہوا کہ 54 فیصد سولر اجزا پہلے سے ٹیکس نیٹ میں ہیں، جبکہ 46 فیصد پر 18 فیصد ٹیکس لگایا گیا۔ مشاورت کے بعد اس ٹیکس کو 10 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ریلیف دینا ممکن ہے مگر اس کے لیے دیگر ذرائع سے ریونیو کا بندوبست ضروری ہوتا ہے۔
ڈپٹی وزیراعظم نے بتایا کہ جب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کو ناکافی قرار دیا گیا اور اسے بڑھا کر 10 فیصد کیا گیا تو اس کے لیے بجٹ میں دیگر ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا بجٹ بنانے کا انداز اتفاقِ رائے اور مشاورت پر مبنی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ میں مجوزہ جامعات کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 4.7 ارب روپے فنڈز ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے پی ڈبلیو ڈی کی بندش سے متعلق ارکان کے تحفظات کو تسلیم کیا اور بتایا کہ اب پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی آئی ڈی سی ایل) تمام صوبوں میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرے گی، جس کا دائرہ اختیار پہلے صرف سندھ تک محدود تھا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے حکومت کی جانب سے سندھ حکومت اور پارٹی تجاویز کو شامل کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چاہتی تھی کہ سولر پینلز پر مکمل 18 فیصد ٹیکس ختم کیا جائے، تاہم اب بجٹ کے بعد کمیٹی قائم کر کے اس پر مزید غور ہوگا۔
ایم این اے اعجاز جاکھرانی نے کراچی کی ترقی اور صحت کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے ایف بی آر سے گرفتاری کے اختیارات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سکھر-حیدرآباد موٹروے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اجلاس کے دوران مختلف ارکان اسمبلی نے خصوصی زرعی زونز، آئی ٹی سہولت مراکز، کسانوں کی مالی معاونت، اور اقلیتوں کے عبادت گاہوں کے لیے فنڈز مختص کرنے کے مطالبات کیے۔ مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر ذوالفقار بھٹی نے دیہی علاقوں کی ترقی اور زراعت کے فروغ پر زور دیا اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے پروگرام تجویز کیے۔
پیپلز پارٹی کے فتح اللہ خان نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور سیلاب متاثرین کی بحالی کا مطالبہ کیا، جبکہ سنی اتحاد کونسل کے اویس حیدر جھکڑ نے کسانوں کی مشکلات اور زراعت میں کمی کا ذکر کیا۔
ایم کیو ایم کے سنجے پروانی نے بجٹ میں مندروں و گرجا گھروں کے لیے فنڈز نہ رکھنے پر احتجاج کیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے کے اغوا کی کوشش پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پیپلز پارٹی کے ذوالفقار بہان نے ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے اور کھاد پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی۔ سنی اتحاد کونسل کے چودھری مبین عارف نے سولر پینلز پر مجوزہ 18 فیصد جی ایس ٹی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر اراکین نے بھی کھاد، بیج، اور زرعی سپورٹ پر زور دیا۔
پارلیمانی سیکریٹری ساجد مہدی نے مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک زرعی میدان میں بہت پیچھے ہے اور ہم کسی بھی فصل کا بیج خود تیار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی زراعت کی ترقی سے مشروط ہے اور کھاد و کیڑے مار ادویات کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جانا چاہیے۔
مزید ارکان میں مہتاب اکبر راشدی، معین وٹو، رائے حسن نواز، چودھری انور الحق، ناصر اقبال، موسیٰ گیلانی، علی جدون و دیگر شامل تھے جنہوں نے بجٹ بحث میں حصہ لیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025