مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی، کے ایس ای 100 انڈیکس کمپنیوں کا منافع 609 ارب روپے رہا
- پورے مالی سال کمپنیوں کا مجموعی منافع 18 فیصد اضافے سے 2.01 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا
ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں نے مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 609 ارب روپے کا منافع کمایا جو سالانہ 34 فیصد اور سہ ماہی 20 فیصد زیادہ ہے جبکہ پورے مالی سال 26 میں کمپنیوں کا مجموعی منافع 18 فیصد اضافے سے 2.01 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔
تحقیقی ادارے نے بتایا کہ اس کے تجزیے میں 100 انڈیکس کی 100 میں سے 88 کمپنیوں کو شامل کیا گیا جنہوں نے اپنے مالی نتائج جاری کردیے ہیں۔ یہ کمپنیاں انڈیکس کی مجموعی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کا تقریباً 96 فیصد بنتی ہیں۔ ادارے کے مطابق باقی کمپنیوں کو شامل کرنے سے مجموعی منافع میں اضافے کے رجحان پر کوئی نمایاں اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔
ڈالر کے لحاظ سے 100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں کا چوتھی سہ ماہی کے دوران مجموعی منافع 2.0 ارب ڈالر رہا۔
ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) سیکٹر نے بڑے شعبوں میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جس کا منافع مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سالانہ 2.6 گنا اور سہ ماہی 2.3 گنا بڑھ کر 214.2 ارب روپے ہوگیا۔ ٹاپ لائن کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ سپر ٹیکس سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد ٹیکس کی مد میں ہونے والی نمایاں ریورسل تھی۔ شعبے کا پورے مالی سال 26 کا منافع 32 فیصد اضافے سے 461 ارب روپے ہوگیا۔
سیمنٹ سیکٹر کا منافع مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سالانہ 27 فیصد اور سہ ماہی 38 فیصد بڑھ کر 54.3 ارب روپے ہوگیا۔
سالانہ اضافے کی وجہ خالص فروخت اور دیگر آمدنی میں اضافہ قرار دیا گیا جبکہ سہ ماہی بنیاد پر نمو مجموعی منافع میں اضافے کے باعث ہوئی۔ مالی سال 26 میں سیمنٹ سیکٹر کا منافع 14 فیصد بڑھ کر 182.8 ارب روپے ہوگیا جس کی بنیادی وجہ خالص فروخت میں اضافہ تھا جبکہ مقامی ڈسپیچز میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔
فرٹیلائزر سیکٹر کا منافع چوتھی سہ ماہی میں سالانہ 35 فیصد اور سہ ماہی 70 فیصد بڑھ کر 49.5 ارب روپے ہوگیا۔ ٹاپ لائن کے مطابق سالانہ بنیاد پر اضافے کی وجہ یوریا کی فروخت کے حجم میں اضافہ تھا،جبکہ سہ ماہی بنیاد پر اضافے کی بنیادی وجہ ایس آئی ڈی سی سے متعلق ڈسکاؤنٹنگ آمدنی سے حاصل ہونے والے ایک مرتبہ کے منافع تھے۔
آٹو موبائل سیکٹر کی آمدنی سالانہ 42 فیصد اور سہ ماہی 4 فیصد بڑھ کر 31.4 ارب روپے ہوگئی۔ اس اضافے کی وجہ فروخت میں اضافہ اور آٹو فنانسنگ میں بہتری قرار دی گئی۔ پورے مالی سال 26 میں آٹو سیکٹر کا منافع 33 فیصد اضافے سے 108.2 ارب روپے ہوگیا۔
فوڈ اینڈ پرسنل کیئر کمپنیوں نے 15.8 ارب روپے کا منافع ریکارڈ کیا جو سالانہ 7 فیصد زیادہ جبکہ سہ ماہی 13 فیصد کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق سہ ماہی کمی کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع تھا جس کے باعث سیکٹر کے مارجنز میں سہ ماہی بنیاد پر 28 فیصد کمی ہوئی۔
ریفائنری سیکٹر کا منافع سالانہ 132 فیصد بڑھ کر 1.1 ارب روپے ہوگیا جس کی بنیادی وجہ مجموعی ریفائننگ مارجنز میں اضافہ تھا۔ تاہم انوینٹری نقصانات اور ایک مرتبہ کے ایڈجسٹمنٹس کے باعث منافع سہ ماہی بنیاد پر 96 فیصد کم ہوگیا۔
فارماسیوٹیکل سیکٹر کا منافع مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 10 فیصد اور سہ ماہی بنیاد پر 37 فیصد کم ہوکر 5.3 ارب روپے رہ گیا۔ سہ ماہی بنیاد پر کمی کی وجہ فروخت کے حجم میں کمی اور دی سیرل کمپنی میں ایک مرتبہ کی ایڈجسٹمنٹ کو قرار دیا گیا۔
دیگر شعبوں میں پاور، کیمیکلز اور ٹیکسٹائلز نے بالترتیب سالانہ بنیاد پر 39 فیصد، 108 فیصد اور 132 فیصد منافع میں اضافہ ریکارڈ کیا۔ دریں اثنا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مجموعی طور پر 21 ارب روپے کے نقصان کی اطلاع دی جس کی بنیادی وجہ پاکستان اسٹیٹ آئل کو ہونے والے انوینٹری نقصانات تھے۔
100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں نے مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران 291.1 ارب روپے کے نقد منافع کا اعلان کیا جو مالی سال 2025 کی اسی سہ ماہی کے 281.6 ارب روپے کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہے۔ سہ ماہی کے دوران منافع کی ادائیگی کا تناسب مجموعی منافع کا تقریباً 48 فیصد رہا، جبکہ مالی سال 25 کی چوتھی سہ ماہی میں یہ تناسب 62 فیصد تھا۔
سہ ماہی بنیاد پر نقد منافع کی ادائیگی میں 93 فیصد اضافہ ہوا جو مالی سال کے اختتام کے قریب کمپنیوں کی جانب سے منافع کی ادائیگی میں معمول کے مطابق ہونے والے اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
پورے مالی سال کے دوران کے ایس ای 100 کمپنیوں کی جانب سے اعلان کردہ نقد منافع 904.4 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو 11 فیصد اضافہ ہے جبکہ منافع کی ادائیگی کا تناسب تقریباً 45 فیصد رہا۔
چوتھی سہ ماہی میں بینکنگ سیکٹر نقد منافع کی ادائیگی میں سب سے بڑا حصہ دار رہا، جس نے 92 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد ای اینڈ پی کمپنیوں نے 85 ارب روپے جبکہ فرٹیلائزر کمپنیوں نے 23 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔
بینکنگ سیکٹر میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے 20.0 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد میزان بینک نے 14.4 ارب روپے اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان نے 11.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔
ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (اوجی ڈی سی) نے سب سے زیادہ 25.8 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔ ماری پیٹرولیم نے 22.4 ارب روپے، پاکستان آئل فیلڈز نے 20.6 ارب روپے جبکہ پاکستان پٹرولیم نے 16.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔
فرٹیلائزر سیکٹر میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) نے 20.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، جبکہ اینگرو فرٹیلائزرز نے 2.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔
آٹو موبائل سیکٹر میں ملت ٹریکٹرز نے 4.4 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا اس کے بعد انڈس موٹر کمپنی نے 3.6 ارب روپے اور سازگار انجینئرنگ ورکس نے 1.2 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔
فوڈ اینڈ پرسنل کیئر سیکٹر میں نیسلے پاکستان نے 9.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد یونی لیور پاکستان فوڈز نے 2.2 ارب روپے اور نیشنل فوڈز نے 1.2 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔
سیمنٹ کمپنیوں میں لکی سیمنٹ نے 7.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا، اس کے بعد بیسٹ وے سیمنٹ نے 5.9 ارب روپے اور فوجی سیمنٹ نے 3.7 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔
پاور سیکٹر میں حب پاور کمپنی نے 6.5 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا جبکہ کوٹ ادو پاور کمپنی نے 1.3 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔
فارماسیوٹیکل سیکٹر نے مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران 4.6 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا۔ گلیکسو اسمتھ کلائن پاکستان نے 2.2 ارب روپے، ہیلیون پاکستان نے 1.2 ارب روپے جبکہ اے جی پی لمیٹڈ نے 560 ملین روپے ادا کیے۔
مجموعی طور پر ٹاپ لائن کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ چوتھی سہ ماہی کے دوران منافع میں بحالی کو ای اینڈ پی کمپنیوں، بینکوں، سیمنٹ، فرٹیلائزر اور آٹو موبائل کمپنیوں کی مضبوط شراکت سے تقویت ملی جبکہ مالی سال کے دوران منافع کی تقسیم میں بھی اضافہ ہوا، جو کئی بڑے شعبوں اور کمپنیوں کی جانب سے زیادہ منافع کی ادائیگی کی عکاسی کرتا ہے۔























Comments