BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.56%)
KSE30 Decreased By (-0.54%)
BAFL 56.92 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
BIPL 24.91 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.96 Decreased By ▼ -0.16 (-1.22%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.85 Decreased By ▼ -4.60 (-2.39%)
FABL 93.78 Decreased By ▼ -0.36 (-0.38%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.45 Decreased By ▼ -0.27 (-1.83%)
GGL 19.05 Decreased By ▼ -0.51 (-2.61%)
HBL 305.55 Decreased By ▼ -0.55 (-0.18%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.39 Decreased By ▼ -1.77 (-1.9%)
OGDC 314.15 Decreased By ▼ -2.58 (-0.81%)
PAEL 35.10 Decreased By ▼ -0.53 (-1.49%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.50 Decreased By ▼ -4.41 (-1.94%)
PRL 90.99 Decreased By ▼ -2.03 (-2.18%)
SNGP 90.62 Decreased By ▼ -1.22 (-1.33%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.58 Decreased By ▼ -0.22 (-2.82%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
رائے

جی ایم مکئی کو درآمد شدہ بیجوں کی نہیں، خود مختار زرعی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے

  • پاکستانی کھیتوں کے مسائل کا حل مقامی جینیاتی تحقیق اور جدید بایوٹیکنالوجی میں پوشیدہ ہے
شائع اپ ڈیٹ

ملک کے زرعی شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان نے اصولی طور پر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مکئی کی تجارتی پیداوار اور کاشت کی جانب پیش رفت کا فیصلہ کیا ہے۔

جی ایم مکئی سے متعلق وفاقی حکومت کی خصوصی کمیٹی میں حالیہ اعلیٰ سطح کے اتفاق رائے کے بعد بتایا گیا ہے کہ ایک جامع عملدرآمدی فریم ورک تیزی سے تیار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت موجودہ ہائبرڈ اور نامیاتی اقسام کے ساتھ جدید جینیاتی خصوصیات کو ملکی کاشت کاری کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔

اس پالیسی تبدیلی کے حامی اسے فصلوں کے تحفظ کو جدید بنانے اور اربوں روپے کی پولٹری و فیڈ صنعت کے لیے پیداوار بڑھانے کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں لیکن ماحولیاتی اور قانونی حقائق کا جائزہ اس معاملے میں اہم خدشات بھی سامنے لاتا ہے۔ تجزیے کے مطابق منظور شدہ تجارتی فریم ورک کے تحت بھی مغربی ممالک سے درآمد شدہ فصلوں کی ٹیکنالوجی کو براہ راست اپنانا مقامی زرعی حالات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان میں بائیوٹیکنالوجی کو حقیقی معنوں میں سپلائی چین کے تحفظ کا ذریعہ بنانے کے لیے درآمدی بیجوں پر انحصار کے بجائے مقامی اور خودمختار جدت طرازی کے ماڈل کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔

معیاری امریکی یا دیگر درآمدی بیجوں کی ٹیکنالوجی پر انحصار میں بنیادی مسئلہ مختلف علاقوں میں کیڑوں کی حیاتیاتی ساخت کا ہے۔ پودے کے ڈی این اے میں شامل کیے جانے والے کیڑے مار پروٹین مخصوص کیڑوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ امریکا کے مکئی کے بڑے پیداواری علاقوں میں جی ایم مکئی کو بنیادی طور پر یورپی کارن بورر اور ویسٹرن کارن روٹ ورم جیسے مقامی کیڑوں کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کے مکئی کے ماحولیاتی نظام میں صورتحال مختلف ہے۔

پاکستان میں مکئی کے لیے ایک بڑا خطرہ مکئی کا تنے کا کیڑا ہے، جو یورپی قسم سے مختلف انداز میں نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ موسم بہار کی فصل کے دوران کسانوں کو مکئی کی شوٹ فلائی سے بھی شدید نقصان کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ کیڑا ابتدائی پودوں کو تباہ کرتا ہے اور درآمد شدہ جی ایم مکئی میں اس کے خلاف کوئی مؤثر جینیاتی تحفظ موجود نہیں۔

چیونگنے والے کیڑوں کے علاوہ درآمدی امریکی ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کمزوری پاکستان میں پائے جانے والے رس چوسنے والے کیڑوں کا پیچیدہ مسئلہ ہے، جس میں کارن لیف ایفیڈ اور مکئی کے جیسڈز نمایاں ہیں۔ روایتی جی ایم مکئی میں عموماً کرسٹلائن بی ٹی پروٹین استعمال کیے جاتے ہیں، جنہیں مؤثر ہونے کے لیے کیڑے کا پودے کے حصے کو چبانا اور نگلنا ضروری ہوتا ہے۔

رس چوسنے والے کیڑے مختلف حیاتیاتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ پتوں کو چبانے کے بجائے سوئی نما منہ کے حصوں کے ذریعے پودے کو چھید کر اس کے اندرونی حصے سے غذائیت سے بھرپور رس چوستے ہیں۔ چونکہ روایتی جی ایم اقسام میں کیڑے مار پروٹین پودے کے خلیوں کے اندر موجود ہوتے ہیں اور رس کے ذریعے گردش نہیں کرتے، اس لیے ایفیڈ ان زہریلے پروٹین سے بچ جاتے ہیں۔

مزید برآں رس چوسنے والے کیڑوں کے نظامِ ہاضمہ کی کیمیائی خصوصیات بھی مختلف ہوتی ہیں، جبکہ روایتی بی ٹی پروٹین کو فعال ہونے کے لیے انتہائی الکلائن ماحول درکار ہوتا ہے۔ تجزیے کے مطابق ایفیڈ کے معدے میں یہ پروٹین غیر مؤثر رہتا ہے۔

زرعی اعداد و شمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ روایتی بی ٹی بیج لگانے سے چبانے والے کیڑے ختم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں پودا صحت مند رہتا ہے لیکن ایفیڈ کے لیے افزائش کا موزوں ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ اس طرح ثانوی کیڑوں میں اضافہ ہوسکتا ہے اور پاکستانی کسانوں کو رس چوسنے والے کیڑوں کے خاتمے کے لیے کیڑے مار ادویات کا زیادہ استعمال کرنا پڑے گا، جس سے جی ایم زراعت کے ذریعے اخراجات کم کرنے کا مقصد متاثر ہوسکتا ہے۔

درآمد شدہ اقسام میں مقامی جینیاتی خصوصیات شامل کرنے کی قانونی اور جینیاتی رکاوٹیں بھی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ مقامی سرکاری ادارے غیر ملکی بیج خرید کر انہیں مقامی اقسام کے ساتھ ملا کر مطلوبہ خصوصیات کیوں شامل نہیں کرسکتے؟ اس کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی دانشورانہ املاک کے حقوق کا سخت نظام ہے۔

تجارتی مغربی بیج پیچیدہ پیٹنٹ نظام کے تحت محفوظ ہوتے ہیں۔ جین کی ترتیب، جین کو فعال کرنے والا سالماتی نظام اور کروموسوم میں جین داخل کرنے کی مخصوص جگہ تک عالمی سطح پر پیٹنٹ کے دائرے میں آسکتی ہے۔ تجزیے کے مطابق کروڑوں ڈالر کے بین الاقوامی لائسنس کے بغیر غیر ملکی کارپوریٹ اقسام میں مقامی جینیاتی خصوصیات شامل کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے پاکستان کے زرعی شعبے کو تجارتی مقدمات اور برآمدی پابندیوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

قانونی رکاوٹیں دور ہونے کے باوجود بھی بریڈرز کو ایک بڑی تکنیکی مشکل کا سامنا ہوگا۔ امریکی بایوٹیکنالوجی خصوصی طور پر نرم ڈینٹ مکئی کی جینیاتی اقسام میں تیار کی گئی ہے، جو معتدل آب و ہوا کے لیے موزوں ہیں۔ پاکستان میں ہائبرڈ اور چھوٹے کاشتکاروں کی زراعت سخت فلنٹ مکئی پر انحصار کرتی ہے، جو مقامی ذخیرہ کرنے والے کیڑوں کے خلاف قدرتی مزاحمت رکھتی ہے اور انتہائی خشک زمینوں میں بہتر اگاؤ دیتی ہے، جہاں موسم بہار میں درجہ حرارت اکثر 45 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔

امریکی ڈینٹ اقسام کو مقامی فلنٹ اقسام کے ساتھ کراس بریڈ کرنے سے لنکیج ڈریگ نامی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، جس میں مقامی اہم خصوصیات جیسے خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت اور دانے کی سختی متاثر ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ پودے کا جینیاتی نظام اکثر بیرونی امریکی جین کو اجنبی سمجھ کر ’جین سائلنسنگ‘ نامی دفاعی نظام فعال کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں کیڑوں کے خلاف جینیاتی تحفظ غیر مؤثر ہوسکتا ہے۔

اگر پاکستان نئی بایوٹیکنالوجی پالیسی کے تحت مکئی کے شعبے کو حقیقی معنوں میں جدید بنانا چاہتا ہے تو مقامی تحقیقی اداروں کو غیر ملکی انحصار سے ہٹنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ہوسٹ انڈیوسڈ جین سائلنسنگ ٹیکنالوجیز اور مقامی بی ٹی اقسام کی شناخت میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ فلوئم سے مخصوص پروموٹرز کے ذریعے مقامی سائنسدان اور پلانٹ بریڈرز ایسی مکئی کی اقسام تیار کرسکتے ہیں جن میں جین سائلنسنگ کے مالیکیولز پودے کے رس کے ذریعے مخصوص مقامات تک پہنچیں۔ جب مقامی افیڈ پودے کا رس چوستا ہے تو یہ مالیکیول اس کے جسم میں داخل ہوکر اس کی بقا کے لیے ضروری جینز، مثلاً لعابی خامروں یا پانی کے توازن سے متعلق نظام کو غیر فعال کرسکتے ہیں۔

مزید برآں پلانٹ بریڈرز رائٹس ایکٹ 2016 کے تحت پاکستان کے پاس مقامی طور پر دریافت کی جانے والی جینیاتی اقسام کی رجسٹریشن اور تحفظ کا قانونی نظام موجود ہے۔ سینٹر آف ایکسی لینس اِن مالیکیولر بائیولوجی جیسے اداروں اور مقامی نجی بیج کمپنیوں کے درمیان مضبوط پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے ریاست مہنگے فیلڈ ٹرائلز اور پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے درکار ماحولیاتی منظوریوں کے اخراجات پورے کرسکتی ہے۔

تجارتی پیمانے پر پیداوار کی اجازت جدت کے لیے ایک موقع ہے، لیکن امریکی مڈویسٹ کے لیے تیار کیے گئے غیر ملکی ماڈلز کو اپنانا خطرے سے خالی نہیں۔ پاکستان کے منفرد زرعی مسائل کا حل پاکستانی ساختہ ٹیکنالوجی کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے ملکی بایوٹیک خودمختاری ہی کھیتوں کے تحفظ، کسانوں کو بااختیار بنانے اور حقیقی قومی غذائی تحفظ یقینی بنانے کی مؤثر راہ قرار دی جارہی ہے۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف